|
||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ..:: Hot News: | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
|
ریحان بٹ، ایشیا کے بہترین کھلاڑی Saturday, 12.20.2008, 10:15pm (GMT) ملائشیا میں ایشین ہاکی فیڈریشن کی کانگرس کے سنہ 2008 کے اجلاس میں پاکستان کی ہاکی ٹیم کے سابق کپتان اور سنٹر فارورڈ ریحان بٹ کواس سال کا ایشیا کا بہترین کھلاڑی قرار دیا گیا۔ ریحان بٹ نے اس ایوارڈ کے اعلان کے بعد بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ انہیں یہ اعزاز حاصل کر کے بے حدخوشی ہوئی ہے لیکن اصل خوشی اس بات کی ہے کہ وہ اپنے ملک کے لیے ایک اعزاز حاصل کرنے کا سبب بنے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ کافی عرصے سے کسی پاکستانی کھلاڑی نے کسی بین الاقوامی سطح پر پر کوئی انفرادی اعزاز حاصل نہیں کیا تھا۔ 'شہباز سینیئر اور سہیل عباس کے بعد لوگوں کا خیال تھا کہ اب پاکستان کی ہاکی میں کوئی ایسا کھلاڑی نہیں جو بین عالمی یا ایشیا کی سطح پر کوئی ایوارڈ حاصل کر سکے اور اب انہیں ایشیا کا بہترین کھلاڑی کا ایوارڈ ملنا خوشی کی بات ہے۔' ریحان بٹ ہالینڈ میں لیگ ہاکی کھیل رہے ہیں اور موسم سرما کے وقفے کے دوران پاکستان آئے ہوئے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اگلے سال فروری سے اپریل تک وہ ہالینڈ میں لیگ ہاکی کھیلنے میں مصروف ہوں گے اس کے بعد اگر پاکستان ہاکی فیڈریشن چاھے گی تو وہ ایشیا کپ میں پاکستان کی نمائندگی کریں گے۔ ریحان بٹ کا کہنا تھا کہ ہالینڈ میں ہونے والی لیگ میں کافی سخت مقابلے ہوتے ہیں اور اس کے لیے کھلاڑیوں کو اپنی فٹ نس کا پورا خیال رکھنا پڑتا ہے اور اسی لیے وہ کافی فٹ ہیں۔ پاکستان ہاکی فیڈریشن کے چیف سلیکٹر حسن سردار پہلے ہی یہ واضح کر چکے ہیں کہ اگر کوئی بھی سینیئر کھلاڑی اپنی فٹ نس ثابت کرے گا تو وہ ٹیم میں جگہ حاصل کر سکتا ہے۔ ریحان بٹ 2001 سے پاکستان کی قومی ٹیم کے رکن ہیں۔ انہوں نے 253 بین الاقوامی میچوں میں پاکستان کی نمائندگی کی وہ اس سال ورلڈ ہاکی فیڈریشن کی بنائی گئی بیس بہترین کھلاڑیوں کی عالمی ٹیم میں بھی شامل کیے گئے تھے۔
|
|
||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
|
||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||