نیویارک (خصوصی رپورٹ)غزہ پہ اسرائیلی جارحیت کے خلاف نیویارک سٹی ( مین ہیٹن ) میں اتوار کو ایک بار احتجاجی مظاہرہ کیا گیا جس میں ہزاروں کی تعداد میں مسلم و عرب امریکن کمیونٹی کے ارکان کے علاوہ انسانی حقوق کی مختلف اہم تنظیموں کے علاوہ یہودیوں کی بھی ایک بڑی تعداد نے شرکت کی ۔اس احتجاجی مظاہرہ میں غزہ پہ اسرائیلی حملوں کی مذمت کی گئی اور فوری طور پہ اسرائیلی افواج کی غزہ سے واپسی اور جنگ بندی کا مطالبہ کیا گیا۔اس احتجاج میں یہودیوں کے اس گروپ نے شرکت کی کہ جو اسرائیل کے بطور ریاست قیام کے مخالف ہیں ۔ان ارکان نے اپنے ہاتھوں میں پلے کارڈز اورع بینرز اٹھا رکھے تھے جن پہ اسرائیل اور اسرائیل اقدامات کے خلاف نعرے درج تھے ۔ان یہودیوں نے بھی فوری جنگ بندی کا مطالبہ کیا او ر اسرائیلی اقدامات کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ یہودی امن پسند اور عاجز قوم ہیں ، انہوں نے کہا کہ زائنسٹ یہودی نہیں ہیں ۔احتجاجی مظاہرہ ٹائم سکوائر سے ہوتا ہوا سی این این ٹی وی چینل کے دفتر کے سامنے تک گیا جہاں بڑا جلسہ عام منعقد ہوا۔مظاہرے کے منتظمین نے دعویٰ کیا کہ مظاہرے میں 25ہزار افراد شریک ہوئے ۔احتجاجی مظاہرے میں پاکستانی امریکن کمیونٹی کی اہم شخصیات ڈاکٹر شفیق ، شاہد کامریڈ، رانا سعید، انور واسطی، محمد حسین ایڈوکیٹ،سرفراز امین اور عاصمہ باجوہ نے شرکت کی ۔مظاہرین مسلسل نعرے لگاتے رہے کہ جب تک انصاف نہیں ہوگا ، امن نہیں ہوگا، اسرائیل فوج کشی بند کرے، غزہ سے فوری نکلے ۔شرکاءمیں بڑی تعداد میں بچے ، خواتین اور سٹوڈنٹس شامل تھے ۔شرکاءنے اپنے ہاتھوں میں پلے کارڈز او ر بینرز کے علاوہ فلسطین کے جھنڈے بھی اٹھا رکھے تھے ۔مظاہرے کے دوران اس وقت ایک ناخوشگوار واقعہ پیش آیا کہ جب مظاہرین میں سے دو گروپ آپس میں الجھ پڑے اور ان کے الگ کرنے کی کوشش میں دو پولیس حکام ان کی ہاتھا پائی کا شکار ہو گئے جس میں پولیس نے نو مظاہرین کو گرفتار کر لیا۔