لاہور (ندائے وقت )سےکورٹی ذرائع نے دعویٰ کےا ہے کہ لاہور مےں لبرٹی چوک کے قرےب سری لنکن کرکٹ ٹیم پر حملہ کرنے والے دہشت گرد گروہ کے3 ارکان کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔ سےکورٹی ذرائع کے مطابق حملہ آور کئی روز سے لاہور میں رہائش پذیر تھے اور انہیں دوسرے شہروں سے بھی تعاون حاصل تھا ۔ تحقیقات کرنے والے اداروں نے کئی شہروں سے متعدد ملزمان کو گرفتار کیا اور سرچ آپریشن کے دوران حاصل ہونے والی معلومات کی بنیاد پر مخصوص مقامات پر چھاپے مارے ۔ ذرائع کے مطابق ان چھاپوں کے نتیجے میں دو حملہ آور بھی پکڑے گئے ہیں اور ان کے ساتھیوں کی تلاش جاری ہے۔ ذرائع کے مطابق ابتدائی تحقیقات سے اس حملے میں بھارتی ایجنسی ” را “ کے ملوث ہونے کے ثبوت ملے ہیں ۔ ان دہشت گردوں کی گرفتاری کے بارے میں رپورٹ جلد منظر عام پر لائے جانے کا امکان ہے۔ پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ دہشت گردوں کے مکمل نیٹ ورک تک پہنچنے کے لیے مختلف شہروں میں خصوصی ٹیمیں روانہ کر دی گئی ہیں ۔ پولیس نے فیصل آباد سے تین اور رحیم یارخان سے بھی دومشکوک افراد کو گرفتار کیاگیا ہے جبکہ اب تک گرفتار ہونے والے مشکوک افراد کی تعداد سو سے تجاوز کرچکی ہے.بعض پولیس ذرائع نے یہ بھی دعوٰی کیا ہے کہ حملہ میں غیر ملکی ایجنسی کے ملوث ہونے کے ثبوت مل گئے ہیں۔ لاہور پولیس کے سربراہ حبیب الرحمن نے کہا ہے کہ سری لنکا کرکٹ ٹیم پر حملہ آوروں کا ابھی تک کوئی سراغ نہیں ملا تاہم کئی مشتبہ لوگوں کو گرفتار کیا گیا ہے۔پنجاب پولیس کے سربراہ حبیب الرحمٰن نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ جگہ جگہ چھاپے مارے جا رہے ہیں اور مشتبہ لوگوں کو پکڑا جا رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ کسی معمولی گروپ کی کارروائی نہیں تھی۔ حاجی حبیب الرحمن نے اس عام خیال کی تردید کی کہ ٹیم کی حفاظت کے لئے پولیس کا خاطر خواہ انتظام نہیں کیا گیا تھا۔انہوں نے کہا کہ پولےس نے مشتبہ افراد مےں سے چار کے خاکے جاری کردیئے ہیں۔ سری لنکن ٹیم پر دہشت گردو ں کے حملے کے بعد صوبائی دارالحکومت میں اعلیٰ سیاسی و سرکاری شخصیات کی سیکورٹی انتہائی سخت کر دی گئی ہے‘ اس سلسلہ میں گزشتہ روز سابق وزیر اعلیٰ محمد شہباز شریف کی ضلعی کچہری میں وکلاءکی تقریب میں شرکت کے موقع پر سیکورٹی کے غیرمعمولی انتظامات کئے گئے تھے ۔ حفاظتی انتظامات کے سلسلہ میں ضلع کچہری کو آنےوالی تمام شاہراہوں پر سیکورٹی اہلکار تعینات تھے جبکہ تقریب کے مقام کے اردگرد واقع تمام عمارتوں پر پولیس کے جوان ڈیوٹی دیتے رہے ۔ تقریب میں شامل ہونے والے تمام افراد کو تین مقامات پر قانون نافذ کرنے والے اداروں کی طرف سے خصوصی چیکنگ کے بعد سکیننگ مشین سے گزار کر تقریب میں داخل ہونے دیا گیا ۔ حفاظتی انتظامات کے سلسلہ میں بلٹ پروف اسٹیج اور ڈائس لگایا تھا جبکہ قانون نافذ کرنےوالے اداروں کے اہلکاروں کی ایک بڑی تعداد اسٹیج پر شہباز شریف کے گرد حصار بنائے کھڑی رہی ۔
کمشنر لاہور خسرو پروےز نے منگل کے روز سری لنکا کی ٹےم پر ہونے والے حملے کے دوران سےکورٹی انتظامات کی بڑی ناکامی کا اعتراف کر لےا۔ نجی ٹی وی سے گفتگو کے دوران خسرو پروےز نے کہاکہ سےکورٹی کے انتظامات مےں کچھ کمی تھی جو کہ واضح طور پر نظر آ رہی ہے۔ کمشنر نے کہا کہ پولےس کی مزےد امداد نہ پہنچنے کی وجہ سے دہشت گرد حملہ کر کے فرار ہونے مےں کامےاب ہو گئے۔ انہوںنے مزےد کہاکہ پولےس کے سکواڈ نے مسلح افراد سے لڑنے کی بجائے سری لنکن ٹےم کو باحفاظت محفوظ جگہ تک پہنچانے کو اہمےت دی۔ خسرو پروےز نے کہا کہ ہم سےکورٹی کی بدترےن ناکامی کو قبول کرتے ہےں اور آئندہ اس سے سبق حاصل کرےں گے۔ انہوںنے کہا کہ سری لنکا کی ٹےم کو صدر کے برابر سےکورٹی فراہم کی گئی تھی، ان سے پوچھا گےا کہ سےکورٹی کی ناکامی کا جواب کس سے لےا جائے گا تو انہوں نے کہا کہ حکومت کی تحقےقاتی ٹےم اس کا فےصلہ کرے گی۔
مانیٹرنگ سیل کے مطابق انٹیلی جنس ذرائع کے مطابق سری لنکن ٹیم پرحملہ کرنے والے دوملزمان اچھرہ کے قریب بوائز ہاسٹل میں رہائش پذیر تھے۔ ان میں سے ایک اچھرہ کے ہاسٹل میں جنوری کے وسط سے رہائش پذیر تھا۔ اس نے جو شناختی کارڈ جمع کروایا وہ جعلی تھا تاہم تصویر اصل تھی۔
علاوہ ازیں لبرٹی حملے کی تحقیقات کے سلسلہ ایف آئی اے کی ٹیم لاہور پہنچ گئی۔ ذرائع کے مطابق گراﺅنڈ میں دھماکہ خیز مواد بچھانے کا منصوبہ بنایا گیا تھا جس میں ناکامی پر فائرنگ کی گئی۔
خاکے جاری