لاہور (ندائے وقت ) پاکستان مسلم لیگ (ن) کے صدر میاں شہباز شریف نے کہا ہے کہ زرداری کے ساتھ مفاہمت کی بات کرنے والے سب قابل احترام ہیں مگر یہ ضمانت کون دے گا کہ آصف علی زرداری آئندہ وعدہ خلافی نہیں کریں گے۔ 16کروڑ عوام کو اب آصف علی زرداری پر اعتبار نہیں وہ اس کے چکر میں نہیں آئیں گے۔ صدر زرداری اپنا وطیرہ بدلیں 17ویں ترمیم ختم، 2نومبر والی عدلیہ اور 25فروری کی پنجاب حکومت بحال کر دی جائے تو شائد یہ قوم ان کی وعدہ خلافیوں کو معاف کر دے۔ انہوں نے کہا کہ اقبال اور قائد کے خواب کو شرمندہ تعبیر کرنے کے لئے مجھے اپنی جان کی کوئی پرواہ نہیں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے گذشتہ روز لاہور ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن اور لاہور بار ایسوسی ایشن کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر جسٹس (ر) ایم اے شاہد صدیقی، لاہور بار کے صدر رانا ضیاءعبدالرحمن، سیکرٹری احمد یار چاولی اور خرم رفیق شاد نے بھی خطاب کیا۔ میاں شہباز شریف نے کہا کہ اسفند یار ولی خان، مولانا فضل الرحمن، نواب اسلم رئیسانی اور وہ تمام افراد ان کے لئے قابل احترام ہیں جو آصف علی زرداری سے مل کر عدلیہ بحالی کے معاملے کو مفاہمت آگے بڑھانا چاہتے ہیں مگر میں ان پر یہ واضح کر دینا چاہتا ہوں کہ اب قوم آصف علی زرداری کے چکر میں نہیں آئے گی۔ اسے اب زرداری پر اعتبار نہیں۔ اس امر کی کون گارنٹی دے گا کہ وہ دوبارہ وعدہ خلافی نہیں کریں گے اور کوئی چکر نہیں دیں گے۔ انہوں نے کہا کہ اگر موجودہ جمہوری نظام کو بچانا ہے تو پھر میں وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی سے کہوں گا کہ وہ آگے بڑھیں اور ملک کو بچانے کے لئے کردار ادا کریں عوام کو اب زرداری کے وعدوں پر اعتماد نہیں کیونکہ اس نے ان وعدوں اور تحریری معاہدوں کو صرف صدارت کے منصب کے حصول کے لئے استعمال کیا۔ اگر صدر آصف علی زردری کا وطیرہ یہی رہا تو قوم انہیں تاریخ کے کوڑے دان میں پھینک دے گی۔ اگر صدر آصف علی زرداری نے وہی چکر والی پالیسیاں جاری رکھیں تو لانگ مارچ ان کو بہا لے جائے گی۔ شہباز شریف نے کہا کہ اگر ہمیں کوئی لالچ اور ذاتی مفاد ہوتا تو زرداری نے کئی آفرز کی تھیں جنہیں ہم قبول کر لیتے اور اپنی ممبری اور حکومت بچا لیتے۔ مگر اس کا نقصان پاکستان کو ہوتا، یہاں عدل وانصاف کا خون ہوتا ملک میں ظلم و زیادتی کا بازار گرم ہوتا جو ہمیں کسی صورت منظور نہیں۔ یہ گردن کٹ تو سکتی ہے مگر ظالم کے آگے جھک نہیں سکتی۔ انہوں نے صدر زرداری کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے اغیار کے آگے کوئی سودے بازی نہیںکرنی۔ وہ پاکستان کے مفاد پر کوئی آنچ نہیں آنے دیں گے۔ اس لئے اب قوم کالے کوٹ والوں کے شانہ بشانہ لانگ مارچ اور لانگ واک کی تیاری کرے ۔ 15مارچ کو ہم سب لاہور سے اسلام آباد کی طرف مارچ کریں گے اور دیکھوں گا کون مائی کا لعل جسٹس افتخار محمد چودھری اور ان کے ساتھیوں کو سپریم کورٹ میں بیٹھنے سے روکتا ہے۔ عوام رکاوٹیں ڈالنے والوں کے ہاتھ توڑ دیں گے۔ ہم روکھی سوکھی کھائیں گے، قربانیاں دیں گے، مگر عدل وانصاف کو بحال کرکے رہیں گے۔ انہوں نے کہا کہ اگر ملک میں آزاد عدلیہ بحال نہ ہوئی تو پھر مہران کی وادیاں آنسو بہائیں گی۔ سرحد کے برف پوش پہاڑ ظلم کی تپش سے پگھل جائیں گے۔ پنجاب کے دریا اس غم میں سوکھ جائیں گے اور بلوچستان کے سنگلاخ پہاڑ خون کے آنسو روئیں گے۔ اس لئے اب 15مارچ کو دمادم مست قلندر ہوگا اور لانگ مارچ ہوگا۔ میاں شہباز شریف نے کہا کہ ہم نے اغیار کے آگے کوئی سودے بازی نہیں کی پاکستان کے مفاد پر کسی قسم کی آنچ نہ آنے دی جبکہ زرداری کو ہمیشہ غیر ملکی قوتوں کے سامنے سرجھکائے دیکھا ہے۔ انہوں نے برملا وکلا سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا کہ آپ لانگ مارچ کی تیاریاں کر لیں۔ کالے کوٹ والوں کے ساتھ ان کے لیڈر ہوں گے جبکہ میں اور نواز شریف 16 کروڑ عوام کے ساتھ گلیوں محلوں سے گزرتے ہوئے 15 مارچ کو اسلام آباد پہنچیں گے کوئی مائی کا لعل ہمیں وہاں جانے سے روک نہیں سکے گا۔ کراچی سے خبر تک لانگ مارچ اور لانگ واک ہو گی۔ ہم روکھی سوکھی کھا کر وہاں تک جائیں گے، اقبال اور قائد کے خواب کو شرمندہ تعبیر کرنے کے لئے وزارت اعلیٰ کیا جان بھی قربان کر دیں گے۔ انہوں نے کہا کہ معطل ججوں نے آئین، قانون اور حق کا ساتھ دیا، اللہ نے آپ کی جھولی میں عزت ڈالی، کرسی کی خاطر ایمان، ضمیر اور انصاف کو نہیں بیچا، انہوں نے جسٹس (ر) ایم شاہد صدیقی کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ قوم کی نظریں آپ اور آپ کے ساتھیوں پر ہے جنہوں نے تحریک کو جلا بخشی، لاہور ہائیکورٹ بار کے صدر ایم شاہد صدیقی نے اپنے خطاب میں کہا کہ پیپلز پارٹی پرویز مشرف کے غلط اور غیر آئینی اقدامات کی حفاظت کر رہی ہے آج بھی مشرف کی پالیسیوں پر عمل ہو رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ عدلیہ کو مفلوج کرکے پاکستان کے ایک ستون کو گرایا گیا۔ جمہوریت کے قاتلوں نے ایسا کیا، موجودہ عدلیہ آزاد نہیں یہ آئین کو پامال کرنے والی عدلیہ ہے، حلف لینے کے بعد منحرف ہو گئی جبکہ آئینی انحراف اور مشرف کے اقدامات کے خلاف ابھی تک پارلیمینٹ میں کچھ پیش نہیں کیا گیا، اب ملک میں انقلاب آئے گا، مسلم لیگ (ن) پورے ملک میںکامیاب ہو گی۔ پاکستان کے کونے کونے سے وکلا اسلام آباد کا گھیراﺅ کریں گے، دھرنا دیں گے، مسلم لیگ (ن) نے آئین کو بحال کرانے کے لئے قربانیاں دیں۔ وزارت اعلیٰ اور وزارتیں چھوڑیں۔ لاہور بار کے صدر رانا ضیاءعبدالرحمن نے کہا کہ پی سی او جج کیسا ہوتا ہے پہلے وکلا جانتے تھے اب عوام اور پاکستان کے بچے بچے نے جان لیا ہم پی سی او ججوں، عدالتوں اور گورنر راج کو نہیں مانتے اب صرف لانگ مارچ اور دھرنا ہو گا۔ جب تک پنجاب حکومت اور جج بحال نہیں ہوں گے، اس وقت تک دھرنا جاری رہے گا۔ جینا ہو گا یا مرنا ہو گا، صرف اور صرف دھرنا ہو گا۔
علاوہ ازیں پتوکی میں جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے شہباز شریف نے کہا کہ ملک میں لانگ مارچ ہوگا اور صدر زرداری کا کوئیک مارچ ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ لانگ مارچ جہلم تک پہنچے تو جج بحال ہو جائیں گے۔ پی سی اوز جج کسی کو انصاف فراہم نہیں کرسکتے۔ انصاف کے لئے ہم نے وزارتوں کی قربانی دی اس کے لئے جان بھی دینی پڑی تو دیں گے۔ انہوں نے کہا کہ لاہور میں آج تاریخی ریلی نکلے گی اور اس ریلی سے جعلی ججز کی ٹانگیں کانپ اٹھیں گی۔
شہباز شریف