اسلام آباد (مانیٹرنگ سیل) صدر آصف علی زرداری نے کہا ہے کہ وہ محاذ آرائی پر یقین نہیں رکھتے۔ وہ آج بھی تمام مسائل بات چیت سے حل کرنے پر یقین رکھتے ہیں۔ ایوان صدر میں اسفند یار ولی اور مولانا فضل الرحمن کے ساتھ گفتگو کر رہے تھے جنہوں نے سیاسی صورتحال، مسلم لیگ (ن) کے ساتھ مفاہمت کی کوششوں اور صوبہ سرحد کے متعلق معاملات پر بات چیت کے لئے ان سے ملاقات کی۔ صدر نے دونوں رہنماﺅں کے اعزاز میں ظہرانہ دیا۔ ایوان صدر کے ذرائع نے بتایا کہ صدر نے دونوں اتحادیوں کی مفاہمتی کوششوں کو سراہا اور کہا کہ وہ محاذ آرائی کی طرف نہیں جانا چاہتے۔ مسائل کے حل کے لئے شریف برادران سے بات چیت کے لئے تیار ہیں تاہم احتجاجی سیاست کا راستہ اختیار کرنے سے معاملات بہتر نہیں ہوسکتے۔ دونوں اتحادیوں نے صدر کو مفاہمت اور بات چیت کے لئے نواز شریف کی شرائط سے آگاہ کیا جن پر صدر نے غور کرنے کی یقین دہانی کروا دی۔ دونوں رہنماﺅں نے مفاہمت کے پہلے قدم کے طور پر پنجاب سے گورنر راج ختم کرنے پر زور دیا۔ انہوں نے کہا نواز شریف بھی تصادم کی طرف نہیں جانا چاہتے۔ ملاقات میں پنجاب کے سیاسی بحران کے حل کے لئے کئی تجاویز پر غور کیا گیا۔ صدر نے واضح کےاہے کہ مفاہمت کے لےے دونوں فرےقوں کو لچک دکھانا ہوتی ہے۔ اتحادےوں کو مصالحت کے حوالے سے کوششوں کے بارے مےں اتحاد اور تعاون حاصل رہے گا۔ ملاقات میں پنجاب مےں سےاسی بحران کے خاتمے کے لےے مختلف آپشنز کاجائزہ لےا گےا ۔ ذرائع کے مطابق اتحادےوں نے کہا دونوں فرےقوں کو تےز و تند پےغامات سے گرےز کرنا چاہئے۔ صدر نے کہاکہ وہ نواز شرےف کے سخت بےانات کے باوجود مفاہمت چاہتے ہےں۔ ہراےک کو ےہی راستہ اختےار کرنا چاہئے۔