|
|||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ..:: Hot News: | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
|
باراک اوباما نےامریکہ کے چوالیسویں صدر کی حیثیت سے حلف اٹھا لیا ہے Tuesday, 01.20.2009, 06:41pm (GMT) عراق کو عوام کے حوالے کرنا شروع کریں گے اور افغانستان میں امن قائم رکھیں گے جگہ جگہ بڑی سکرینیں نصب تھیں جہاں لوگوں نے یہ تقریب قریب سے دیکھی۔ لوگ صبح سویرے ہی سے میدان میں جمع ہونا شروع ہو گئے تھے تاکہ اس تاریخی لمحے کو اپنی آنکھوں سے دیکھ سکیں۔
وائٹ ہاؤس کی روایات کے مطابق مسٹر بش نے آّنے صدر براک اوباما کے لیے ایک تحریری نوٹ چھوڑا ۔ صدر بش اور خاتون اول لارا بش نے امریکی کیپیٹل میں حلف برداری کی تقریب سے قبل آج وائٹ ہاؤ س میں مسٹر اوباما اور ان کی اہلیہ کو کافی پر مدعو کیا۔ حلف برداری کی تقریب کے دوران وائٹ ہاؤس میں کارکنوں کی ایک بڑی تعداد سبک دوش ہونے والے صدراور ان کے خاندان کا سامان لے جانے اور نئے صدر کے خاندان کا سامان وائٹ ہاؤس میں لانے کے لیے کام کرے گی۔ حلف برداری کی تقریب کے بعد مسٹر اور مسز بش واشنگٹن ڈی سی کے باہر اینڈریو ایئر فورس کے ہوائی اڈے پر ایک الوادعی تقریب کے بعد ہیلی کاپٹر پر اپنے آبائی گھر ٹیکساس کے لیے روانہ ہوجائیں گے۔ مسٹر بش ایک ایسے وقت میں اپنے عہدے سے سبک دوش ہورہے ہیں جب ان کی مقبولیت کا گراف کم ترین سطح پر ہے۔ مسٹر بش کرافورڈ میں واقع اپنی جاگیر پر روانگی سے قبل ٹیکساس کے قصبے مڈلینڈ میں گھرواپسی کی ایک استقبالیہ تقریب میں شرکت کریں گے۔ بش خاندان آخر کار ڈیلس کیں رہائش اختیار کرے گا لیکن شہر میں ابھی ان کا مکان تزئین وآأرائش کے مراحل ہیں ہے اور ابھی تک رہائش کے قابل نہیں ہوا ہے۔ حلف برداری کے بعد واشنگٹن میں.اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے باراک اوباما نے اپنی تقریر میں کہا کہ 'میں یہاں ہمارے آباؤ اجداد کی قربانیوں کی یاد لیے، لوگوں کی جانب سے مجھ پر کیے جانے والے اعتماد کا شکریہ ادا کرنے کے لیے کھڑا ہوں۔اب تک چوالیس امریکی عہدۂ صدارت کا حلف اٹھا چکے ہیں لیکن آج تک امریکہ کا سفر صرف ان اعلٰی عہدوں پر کام کرنے والے افراد کی صلاحیتوں اور ذہانت کی وجہ سے نہیں بلکہ اس کی وجہ یہ ہے کہ ہم عوام اپنے آباؤاجداد کے آئیڈیلز سے وفادار رہے ہیں۔'
ان کا کہنا تھا کہ 'ہمیں ذمہ دارانہ انداز سے عراق کو اس کے عوام کے حوالے کرنا شروع کریں گے اور افغانستان میں مشکل سے حاصل کیا گیا امن قائم رکھیں گے۔ ہم اپنے پرانے دوستوں اور سابق دشمنوں سے مل کر جوہری ہتھیاروں میں کمی کے لیے انتھک کوششیں کریں گے'۔ اوباما نے کہا کہ'یہ بات سب جانتے ہیں کہ آج ہم ایک بحران کا شکار ہیں۔ ہماری قوم تشدد اور نفرت کا پرچار کرنے والے نیٹ ورک کے خلاف حالتِ جنگ میں ہے۔ ہماری معیشت بری طرح کمزور ہو چکی ہے جس کی وجہ جہاں کچھ افراد کی غیر ذمہ داری اور لالچ ہے وہیں مشکل فیصلے کرنے اور ایک نئے دور کے لیے قوم کو تیار کرنے میں ہماری کوتاہی بھی ہے۔ شدید سردی کے باوجود واشنگٹن کے نیشنل مال پر صبح سویرے سے ہی بڑی تعداد میں لوگ پہنچنا شروع ہوگئے تھے۔حلف برداری کی تقریب کے لیے غیر معمولی حفاظتی انتظامات کیے گئے ہیں اور شہر میں تقریباً چالیس ہزار سکیورٹی اہلکار ڈیوٹی پر تعینات ہیں یا سٹینڈ بائی پر ہیں نامہ نگاروں کے مطابق امریکہ میں یہ احساس ہے کہ تاریخ کے نئے باب کا آغاز ہو رہا ہے۔لیکن نئے صدر کو سنگین چیلنجز کا سامنا ہے۔ امریکہ شدید اقتصادی بحران کی زد میں ہے ارو عراق اور افغانستان میں جنگوں میں گھرا ہوا ہے۔ فوری مسئلہ اس غیر یقینی کی کیفیت سے نمٹنے کا ہے جو مالی بحران کی وجہ سے پیدا ہوئی ہے اور جس کی وجہ سے ہر مہینے لاکھوں کی تعداد میں امریکی بے روزگار ہو رہے ہیں۔ دنیا بھر میں لوگوں کی مسٹر اوباما سے زبردست توقعات وابستہ ہیں۔ مبصرین کے مطابق اس بات پر خاص توجہ ہوگی کہ ایران اور فلسطین کے مسئلوں پر کیا موقف اختیار کرتے ہیں۔
|
|
|||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
|
|||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||