واشنگٹن (مانیٹرنگ سیل)سعودی عرب کی مذہبی پولیس کے سربراہ نے ماضی میں فلموں پر اپنی نکتہ چینی اور قدامت پسند اسلامی ملک میں عشروں سے سنیما پر عائد پابندی کے باوجو کہا ہے کہ بعض فلمیں قابلِ قبول ہوسکتی ہیں.
مقامی اخباروں نے اتوار کے روز شیخ ابراہیم الغیث کے حوالے سے کہا ہے کہ کچھ فلمیں قابلِ قبول ہوسکتی ہیں، بشرطکہ اُن سے اسلامی قانون کی خلاف ورزی نہ ہو۔
غیث ، کمیشن براے امر بالمعروف و نہیٰ عن المنکر کے سربراہ ہیں ، اور انہوں نے یہ بات پچھلے ہفتے جدّے اور طائف میں مقامی طور پر بنائى ہوئى مزاحیہ فلم" مِناہی" کی نمائش کے بعد کہی ہے۔
اس فلم کا اوّلین شَو عورتوں اور مردوں کے مخلوط اجتماع میں ہوا، جو کہ مملکت کے اُن سخت اسلامی قوانین کے مطابق ایک شجرِ ممنوعہ ہے جن میں نامحرم عورتوں اور مردوں کے یکجا ہونے پر پابندی عائد ہے۔
غیث اس سے پہلے یہ کہہ چکے ہیں کہ سنیما ایک ایسی بدی ہے جس کی سعودی عرب کو ضرورت نہیں۔