لاہور (ندائے وقت ) لاہور ہائیکورٹ نے صدر آصف علی زرداری کی طرف سے صوبہ پنجاب میں گورنر راج کے نفاذ کے خلاف درخواستوں کو باقاعدہ سماعت کے لئے منظور کر لیا ہے۔ یہ حکم ہائی کورٹ کے مسٹر جسٹس آصف سعید کھوسہ نے گورنر راج کے خلاف ایک ہی نوعیت کی دو درخواستوں پر ابتدائی سماعت کے بعد دیا۔ عدالت نے اٹارنی جنرل پاکستان اور ایڈووکیٹ جنرل پنجاب کو بھی آئندہ کارروائی کے لئے نوٹس جاری کر دیئے ہیں۔ یہ درخواستیں اے کے ڈوگر اور طارق عزیز ایڈووکیٹ نے آئین کے آرٹیکل ایک سو ننانوے کے تحت لاہور ہائیکورٹ میں دائر کیں ہیں جن میں پنجاب میں لگائے گئے گورنر راج کو چیلنج کیا گیا ہے۔ فاضل جج نے ان درخواستوں کو چیف جسٹس ہائیکورٹ کو اس سفارش کے ساتھ بھجوا دیا ہے کہ ان پر سماعت کے لئے ایک بڑا بنچ تشکیل دیا جائے۔ درخواست گزار وکیلوں نے عدالت کے روبرو یہ اعتراض اٹھایا کہ صوبے میں ایسے حالات نہیں تھے جن کی بنیاد پر گورنر راج لگایا جاتا۔ سماعت کے دوران درخواست گزاروں نے یہ نکتہ اٹھایا کہ گورنر راج کے لئے جو نوٹیفیکیشن جاری کیا گیا ہے اس میں وہ وجوہات بیان نہیں کی گئیں جن کی بنیاد پر یہ کارروائی کی گئی ہے۔ درخواست گزار وکیل اے کے ڈوگر نے دلائل میں کہا کہ گورنر راج اس وقت لگایا جاتا ہے جب آئینی مشینری ناکارہ ہو جائے لیکن بقول ان کے حقیقت میں کوئی آئینی بحران پیدا نہیں ہوا۔ ان کا کہنا ہے کہ قائد ایوان کے نااہل ہونے پر گورنر راج لگانے کے بجائے اسمبلی کا اجلاس بلانا چاہئے تاکہ نئے قائد ایوان کا چناﺅ کیا جا سکے۔ وکلا نے مختلف آئینی دفعات کا حوالہ دیتے ہوئے یہ کہا کہ آئین بنیادی حقوق کو تحفظ فراہم کرتا ہے جبکہ گورنر راج ان بنیادی حقوق کی نفی کرتا ہے۔
درخواستیں منظور