Home FAQ RSS Links Site Map Contact
..:: Hot News: علم بغاوت بلند کردیا،اب فیصلہ سڑکوں پرہوگا: نواز شریف کا ریلی سے خطاب ; زرداری نے نواز شریف کو بڑا بھائی کہہ کر پیٹھ میں چھرا گھونپا: شہباز شریف ; نواز شریف سے مفاہمت کیلئے تیار ہوں: زرداری ; زرداری پر اعتبار نہیں، گیلانی ملک بچائیں: شہبازشریف ; سری لنکن ٹیم پر حملہ کرنیوالے 3 ارکان گرفتار کرنیکا دعویٰ  
Advertisement

 
اسلامی کالم 

انسان کی حقیقت....عا ئشہ کلیم


Sunday, 12.14.2008, 12:50pm (GMT)

اخلاقی اور روحانی طور پر انسان پستی کا شکار ہو رہا ہے
اللہ تعالیٰ اپنے بندے کی آزمائش خوش حالی اور غریبی دونوں صورتوں میں کرتا ہے
زندگی کی تمام نعمتیں اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ ہیں، وہ چھین بھی سکتا ہے

ہر انسان اپنی جسامت یعنی ہاتھ، پاﺅں، آنکھ، ناک اور کان وغیرہ کے اعتبار سے ایک دوسرے سے مطابقت رکھتا ہے لیکن اس کے برعکس ہر شخص خواہ وہ مرد ہو یا عورت ہر انسان اپنے اندر سمجھ بوجھ فہم و فراست اور عقل و شعور کی ایک پوری دنیا اپنے اندر لیے پھرتا ہے۔
تمام انسان مختلف معاملات اور مواقع پر ایک دوسرے سے بالکل منفرد نظر آتے ہیں کچھ تو ممتاز نظر آتے ہیں جبکہ کچھ لوگ کوئی بھی ممتاز مقام حاصل نہیں کر پاتے۔
اللہ تبارک و تعالیٰ نے انسان کو بے انتہائی غیر معمولی صلاحیتیں اور نعمتیں دے کر اس زمین پر اتارا ہے۔ پوری کائنات کو وجود بخشنے کا مقصد ہی انسان کی بقاءاور اس کی فلاح کا مکمل سامان بہم پہنچانا ہے۔ ہر انسانی وجود اپنے اندر ایک مکمل کائنات ہے لیکن وہ اس سے ناواقف ہے مگر اس کو جستجو کے ذریعے کھوجنا انسان پر چھوڑ دیا گیا ہے کہ وہ کس حد تک اپنی عقل اور فہم کو استعمال کرتے ہوئے اس کائنات کی حقیقت کو پہچان پاتا ہے یا نہیں۔
جن افراد کو کھوج لگانے یا مسلسل جستجو کرنے کی لگن ہوتی ہے وہ تو حقیقت تک رسائی حاصل کر لیتے ہیں مگر تمام کے تمام نہیں جبکہ بیشتر انسان تو اس بات سے ناواقف ہی رہتے ہیں کہ وہ کس طرح دوسری مخلوقات سے منفرد، بلند پایہ اور عظیم ہیں کیونکہ وہ خود یہ بات جاننا ہی نہیں چاہتے کہ حقیقت دراصل ہے کیا لہٰذا وہ ایک سطحی سی زندگی گزار کر اور ناواقفیت کا ہی شکار رہ کر اس دنیا سے رخصت ہو جاتے ہیں۔
البتہ چند سوالات ایسے ہیں جو مجھ جیسے بہت سے انسانوں کے ذہنوں میں اکثر و بیشتر گردش کرتے رہتے ہیں اور بعض اوقات پوری زندگی ہی گزر جاتی ہے لیکن انسان ان کی حقیقت سے ناواقف ہی رہ جاتا ہے۔ چند انسان البتہ ایسے ضرور ہوتے ہیں جو اس حقیقت کو پا لیتے ہیں اور ساری زندگی اس حقیقت کے تحت ہی گزارتے ہیں۔ انسان کا مادہ¿ تخلیق مٹی ہے اور انسان دراصل مٹی کا ایک پتلا ہے۔ مٹی کو عام طور پر ایک حقیر اور معمولی سے مادے کی حیثیت حاصل ہے بلکہ اگر اسے ایک حقیر ترین مادہ تخلیق کہا جائے تو بے جا نہ ہو گا۔
انسان کی تخلیق کے وقت شیطان کی نظر انسان کے صرف اس ظاہری وجود پر تھی اور اسی بنا پر اس نے انسان کو سجدہ کرنے سے انکار کر دیا وہ بھی اپنی کم عقلی کی وجہ سے انسان کی حقیقت سے ناآشنا تھا لہٰذا وہ نافرمانی کر بیٹھا جو اس کی دائمی سزا کا موجب بنی۔
آئیے دیکھتے ہیں کہ وہ کون سے سوالات ہیں جو اکثر ہمیں پریشان کرتے ہیں مثلاً انسان کو یہ زندگی کیوں عطا کی گئی؟ اسے پیدا کرنے اور آزمائش میں ڈالنے کا کیا خاص مقصد اللہ تعالیٰ کے پیش نظر تھا؟ انسان سے حقیقت کو کیوں پوشیدہ رکھا گیا؟ انسان کی آزمائش کا دارو مدار کس پر ہے؟ انسانوں کی آزمائش کا پیمانہ یا طریقہ کار کیا ہے؟ انسان کو مکلف کیوں بنایا گیا ہے؟ وغیرہ آئیے ایک ایک کرکے ان سوالات کے جوابات تلاش کرنے کی کوشش کریں۔
پہلے سوال کا جواب یہ ہے کہ : انسان کو یہ زندگی اس کی اپنی مرضی سے نہیں ملی بلکہ اللہ تعالیٰ نے اسے اس کے لیے انتخاب کرتے ہوئے عطا فرمائی ہے لہٰذا یہ پروردگار عالم کی بہت بڑی نعمت ہے۔
یہ زندگی عطا کرنے کا مقصد اس کے اندر موجود ان گنت وصف اور صلاحیتوں کو جانچنا اور منوانا ہے۔ اس کے لیے اسے پوری زندگی کے دوران بھرپور مواقع بہم پہنچائے جاتے ہیں تاکہ وہ اپنی صلاحیتوں کے جوہر دکھا سکے اور منوا بھی سکے اگر یہ زندگی اسے عطا نہ کی جاتی تو کہاں جا کر انسان اپنی صلاحیتوں کی پہچان کرواتا اور کون مانتا کہ واقعی یہ ایک باصلاحیت، باوصف شخص اور مخلوق ہے۔
لہٰذا آج یہ پوری انسانیت پر عیاں ہو چکا ہے کہ انسان غیر معمولی صلاحیتوں کا مجموعہ ہے اسی کا نتیجہ ہے کہ آج انسان نے بے انتہا ترقی کی ہے۔
دوسرے سوال کا جواب یہ ہے کہ : دراصل آزمان کے معنی امتحان کے ہیں۔ جب بھی ہم نے کسی بات یا کام کی حقیقت یا صلاحیت کو جانچنا ہوتا ہے تو ہم اس کا امتحان لیتے ہیں یا اسے آزمائش میں ڈالتے ہیں کیونکہ اس کے بغیر ہم نہیں جان سکتے کہ کون کتنا کھرا ہے اور کون کتنا کھوٹا، کون محنتی ہے اور کون سست، کون عقل مند ہے اور کون بے وقوف، کون کتنی قربانی دے سکتا ہے اور کون بنا کسی قربانی دیئے حاصل کرنا چاہتا ہے لہٰذا آزمائش اور امتحان ناگزیر ہے۔
اللہ تعالیٰ کے پیش نظر بھی یہی اصول تھا کہ کیونکہ اللہ نے بہت بلند مقام پر انسان کی تخلیق کی ہے ”لقد خلقنا الانسان فی احسان تقویم“ کہ بے شک ہم نے انسان کو بہت بلند مقام پر پیدا کیا (سورة التین) اور انسان کو غیر معمولی صلاحیتیں اور اوصاف عطا فرمائے ہیں ان کو چمکانے کے مواقع بھی بہم پہنچا دیئے ہیں پوری کائنات کو دن رات اس کی مدد کے لیے تخلیق کر دیا گیا ہے لہٰذا اب یہ سب اس بات کا تقاضا کرتے ہیں کہ انسان کی آزمائش یقینا کی جائے کہ کون اپنی حقیقت سے واقف ہوتا ہے اور کون بھولا ہی رہتا ہے۔
انسان سے حقیقت کو پوشیدہ اس لیے رکھا گیا کہ اگر آپ آزمائش کی حقیقت کو بحوبی سمجھ گئے ہیں تو آپ کو یہ سمجھنے میں ذرا بھی دقت نہیں ہو گی کہ اگر تمام حقیقتیں آشکارا کر دی جائیں تو پھر تو آزمائش کا مقصد ہی فوت ہو جاتا ہے۔
اس بات کو اس مثال سے سمجھیں کہ استاد تمام طلبا کو برابر کی تعلیم دیتا ہے سب کو ایک ہی طریقے سے سبق پڑھاتا اور سمجھاتا ہے لیکن نتیجہ ہر طالب علم کا مختلف نکلتا ہے کیونکہ تمام طلبا مختلف صلاحیتوں اور خصوصیات کے ساتھ آتے ہیں اور پڑھتے اور سمجھتے اور سیکھتے ہیں۔ بالکل اسی طرح انسان بھی کیونکہ مختلف مزاج، عقل و سمجھ، عادات و اطوار کے مالک ہوتے ہیں اسی لیے اللہ تعالیٰ کی جانب سے آئی ہوئی آزمائش میں یا تو کامیاب ہوتے چلے جاتے ہیں یا ناکام ہوتے چلے جاتے ہیں لیکن یہ آزمائش کا سلسلہ ختم نہیں ہوتا بلکہ پوری زندگی پر محیط رہتا ہے اور حقیقت کو ہمیشہ پوشیدہ ہی رہنے دیا جاتا ہے تاکہ انسان آزمائش سے سبق سیکھتے ہوئے اس کی نوعیت کو سمجھے اور خود حقیقت کا طالب بن کر اس کی کھوج کرے اور اسے پائے تاکہ اس کی قدر و قیمت سے بھی واقف رہے اور اس کے مطابق عمل پیرا بھی ہو۔
دنیا کی زندگی میں بہت سی باتیں ہم سے پوشیدہ رکھی جاتی ہیں مثلاً امتحان کا پرچہ ہمیشہ صیغہ راز میں رکھا جاتا ہے تاکہ طالب علم اس کی پوشیدگی اور راز داری کے باوجود خوب محنت کرتے ہوئے امتحان کی بھرپور تیاری کریں ورنہ اگر اسے راز میں نہ رکھا جاتا تو پھر تو امتحان کا مقصد ہی فوت ہو جاتا، امید ہے کہ یہ بات اس مثال سے واضح ہو گئی ہو گی اس کے باوجود دنیا کے بیشتر انسان اپنی حقیقی حیثیت کو پہچاننے سے اسی لیے قاصر رہتے ہیں کیونکہ وہ حقیقت کو پانے کی طلب ہی محسوس نہیں کرتے اور نہ کرنا چاہتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کی یہی سنت ہے کہ وہ حقیقت صرف ان ہی لوگوں پر آشکارا کرے گا جو سچے اور پاکیزہ دل سے اس کی طلب محسوس کرتے ہوئے اس کی جستجو بھی کریں گے۔
انسان کی آزمائش کا دارو مدار کس پر ہے؟ یہ سوال ذرا پیچیدہ ہے کیونکہ آزمائش کے پیمانے، وقت اور نوعیت اللہ تعالیٰ خود ہی اس کا فیصلہ کرتے ہیں کہ کب کہاں کس انسان کو کس طریقے سے آزمانا ہے انسان دراصل اس کی حقیقت کومکمل طور پر نہیں سمجھ سکتا۔ بہرحال آزمائش تو ہر دم ہر انسان کی ہو ہی رہی ہے چاہے اسے خود کو یہ معلوم ہو یا نہ ہو۔ چاہے اسے یہ آزمائش اچھی لگے یا نہ لگے وہ یہ سوال اللہ تعالیٰ سے نہیں کر سکتا اور نہ ہی عذر ہی پیش کر سکتا ہے کہ اے اللہ! تو نے مجھے اس آزمائش میں کیوں مبتلا کیا۔
البتہ آزمائش کی نوعیت کو سمجھنا چاہیے۔ آزمائش ہمیشہ دو قسم کی ہوتی ہے یا تو خوشی، خوشحالی اور اچھائی سے آزمائش کی جاتی ہے یا پھر غم، غریبی یا بدحالی اور بدی سے آزمائش کی جاتی ہے۔
اکثر ایسا بھی ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے برگزیدہ اور نیک بندوں کو زیادہ سخت آزمائشوں میں مبتلا کرتا ہے اور ہر امتحان ایک سے زیادہ کڑا ہوتا چلا جاتا ہے مثلاً حضرت ابراہیمؑ جن کی پوری زندگی آزمائشوں سے عبارت ہے کہ ایک سے نکلتے تھے تو اللہ دوسری آزمائش میں مبتلا کر دیتا تھا لیکن پھر اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ اللہ اپنے اس بندے سے ناراض ہے بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ خوش ہو جاﺅ کہ اللہ تمہارے درجے بلند کرنا چاہتا ہے اپنی جنت میں تمہیں بہت بلند مقام سے نوازے گا لہٰذا ہر آزمائش کو اللہ تعالیٰ کی جانب سے سمجھتے ہوئے اسی کی ذات پر مکمل بھروسہ رکھیں اور ہمیشہ سوچیں کہ یہ آزمائش کچھ وقت کے لیے ہے پھر ٹل جائے گی اور میرا رب میرا امتحان لے کر میرے ایمان اور عمل کو جانچنا چاہتا ہے کیونکہ میرا تو مقصد حیات ہی یہی ہے۔
لہٰذا ہر آزمائش کا دارو مدار انسان کے اپنے رویے پر منحصر ہے کہ وہ اس آزمائش میں سے کس طرح گزرتا ہے صبر و تحمل اور شکر کرتا ہے یا شور مچاتا اور واویلا کرکے اپنے رب کو ہی ہر مصیبت کا ذمہ دار ٹھہراتا ہے۔
ہمارے اگلے سوال یعنی پیمانہ اور طریقہ کار کا جواب بھی اسی میں پوشیدہ ہے اور آزمائش کا پیمانہ بھی اللہ تعالیٰ انسان کی قابلیت اور برداشت کی قوت کو دیکھ کر ہی طے کرتے ہیں جیسا کہ قرآن میں ہے کہ ”ہم کسی انسان پر اس کی بساط سے بڑھ کر بوجھ نہیں ڈالتے“ اور طریقہ کار بھی آزمائش کا ہر انسان کا مختلف ہو گا وہ مختلف طریقوں سے آزمایا جائے گا سب انسان ایک طریقے سے آزمائے نہیں جاتے کیونکہ ہر انسان مختلف ہے اور مختلف حالات اور وسائل کے ساتھ زندگی گزارتا ہے۔
آخری سوال یہ ہے کہ انسان کو مکلف کیوں بنایا گیا ہے؟ آپ کا کیا خیال ہے کہ کیا اس بات کی کوئی دلیل بنتی ہے کہ ایسی غیر معمولی، بلند پایہ اور عظیم مخلوق کو اتنی بیش بہا نعمتیں اور صلاحتیں تو دی جائیں لیکن اس سے کبھی کوئی پرسش نہ ہو کہ آخر یہ نعمتیں صلاحیتیں اور وسائل کہاں اور کس طرح استعمال کیے جس مالک نے یہ سب کچھ انسان کو عطا کیا ہے وہ کبھی یہ نہ پوچھے کہ بھئی یہ سب کچھ جو تمہارے حوالے کیا گیا تھا ان کا تم نے کہاں کہاں استعمال کیا؟ ان سے کچھ فائدہ بھی اٹھایا یا بس برباد ہی کرتے رہے وغیرہ، کیونکہ یہ بات تو میں نے شروع میں ہی واضح کر دی تھی کہ یہ سب زندگی کی نعمتیں انسان نے خود بخود حاصل نہیں کیں ہیں بلکہ اسے عطا کی گئی ہیں مثلاً زندگی، عقل، دولت، وقت، جوانی، حسن، اولاد، محبت، والدین، صحت وغیرہ وغیرہ ان میں سے کوئی نعمت بھی انسان کو خود بخود حاصل نہیں ہوئی بلکہ پروردگار اسے عطا کرتا ہے تب ہی وہ اس کا مالک بنتا ہے ورنہ وہ چاہے تو چھین لے اور وہ چھین بھی لیتا ہے کیونکہ اصل مالک تو اللہ ہے اس کی مرضی ہے وہ چاہے تو دے چاہے نہ دے۔ مثلاً اگر میں چاہوں کہ میں عقل مند بن جاﺅں تو میں اللہ کے حکم اور مرضی کے بغیر تو بن ہی نہیں سکتی اور اگر یہ سب نعمتیں پروردگار عالم کی عطا کردہ ہیں تو پھر یہ اس کا حق ہے کہ وہ ضرور ان کے استعمال کے متعلق سوال بھی کرے۔
اب اس ترقی یافتہ دور میں یہ جاننا ضروری ہے کہ یوں تو انسان ایک بلند پایہ مخلوق ہونے کے ساتھ ساتھ اپنی غیر معمولی صلاحیتوں کی وجہ سے آج اس کائنات کے بہت سے رازوں سے واقف ہو گیا ہے اس نے سائنس کے میدان میں حیرت انگیز طور پر ترقی کرکے اپنی عظمت کا لوہا منوا لیا ہے اور ثابت کر دکھایا ہے کہ اگر اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کو انسان کے سامنے جھکایا اور انسان کی برتری کو ان پر ثابت کیا تو یہ سب درست تھا کہ واقعی زمین کے نظام کو چلانے کی جو ذمہ داری بطور خلیفہ انسان کے سپرد کی گئی اسے اس نے بخوبی پورا کیا ہے۔
لیکن اس کے ساتھ ساتھ ایک بہت بڑی کمزوری اور خامی بھی اس ترقی کے پیچھے دکھائی دیتی ہے بلکہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ مزید عیاں ہوتی جا رہی ہے اور وہ یہ ہے کہ گو کہ آج کے دور کا انسان عقل و شعور کی بلندیوں کو چھو رہا ہے لیکن اخلاق اور روحانی طور پر وہ شدید کمزوری اور پستی کا شکار ہو چکا ہے۔ یعنی ایک طرف اتنی بلندی تو دوسری جانب بے پناہ پستی۔ آخر ان دونوں میں توازن کیوں نہیں ہے؟ اور توازن کیا ہو گا اور کیسے ہو گا؟
یعنی عقل و شعور کی پختگی کے ساتھ ساتھ اخلاقی طور پر بھی ایک انسان، انسان دکھائی بھی دینا چاہے اور اس کا رویہ بھی یہی بتاتا ہو کہ یہ ایک انسان ہے جس میں انسانیت ہے۔ دوسرے انسانوں کے لیے دل میں درد ہے، ایمانداری، سچائی، دوسرے انسانوں کا احترام، محبت، شفقت اور خودداری جیسے اوصاف بھی موجود ہیں۔
لیکن اپنے اطراف میں دیکھنے سے معلوم ہوتا ہے کہ انسانیت کے اوصاف اس انسان میں موجود نہیں ہیں وہ جھوٹ، بے ایمانی، خودغرضی اور حسد جیسی بیماریوں میں بری طرح مبتلا ہے اور بے پناہ دولت پا کر بھی پریشان اور بے سکون ہے۔ یہ حقیقت اس طرف اشارہ کرتی ہے کہ کہیں خامی ہے؟ وہ خامی کہاں ہے اور اس کا حل اور علاج کیا ہے؟
اگر تعلیم کے ساتھ ساتھ ہماری درس گاہوں میں تربیت کا بھی انتظام کیا جائے تو یقینا نتائج بہت مختلف ہوں گے اور حقیقی انسان وجود میں آئیں گے جو تمام جدید ترین ہنروں سے بھی لیس ہوں گے اور اخلاقی طور پر بھی مضبوط ہوں گے۔
جن قوموں نے انسانی زندگی کے کسی ایک پہلو یعنی جسمانی اور روحانی میں سے اگر کسی ایک پر ہی توجہ دی تو مطلوبہ نتائج حاصل نہ ہوں گے بلکہ دونوں پہلوﺅں کو ساتھ ساتھ اور وہ بھی توازن کے ساتھ چلایا جائے تو نتائج بہت مختلف اور عمدہ نکلیں گے چاہے اس میں وقت اور محنت زیادہ لگے لیکن اسی سے مکمل انسان وجود میں آئیں گے جو اپنی حقیقت سے آشنا بھی ہوں گے اور دوسروں کو بھی آشنا کریں گے۔


    Print        Tell friend        Top


Related Articles:
قرب الٰہی کا زینہ....امیر محمد اکرم اعوان+
انعامات الٰہی.....تحریر : علامہ محمد خلیل الرحمن قادری+
دل کی بیماری کودورکرنے کا نبوی نسخہ+


Other Articles:
قرب الٰہی کا زینہ....امیر محمد اکرم اعوان (12.14.2008) .
انعامات الٰہی.....تحریر : علامہ محمد خلیل الرحمن قادری (12.14.2008) .
دل کی بیماری کودورکرنے کا نبوی نسخہ (12.14.2008) .



 
All News
تازہ ترین
اہم خبریں
امریکہ کی خبریں
کمیونٹی کی خبریں
بین الاقوامی خبریں
ادارتی کالم
اسلامی کالم
ادبی دنیا
خواتین کارنر
بچوں کی دنیا
کھیل
فلمی دنیا
Hot English News
English News

Newsletter
Your Name:
Your Email:
Submit

 Nida-i-waqt Group News Paper Contact:-  nidaiwaqt@nidaiwaqt.com

All Copy Right Reserved Re-production is strictly Prohibited