Home FAQ RSS Links Site Map Contact
..:: Hot News: علم بغاوت بلند کردیا،اب فیصلہ سڑکوں پرہوگا: نواز شریف کا ریلی سے خطاب ; زرداری نے نواز شریف کو بڑا بھائی کہہ کر پیٹھ میں چھرا گھونپا: شہباز شریف ; نواز شریف سے مفاہمت کیلئے تیار ہوں: زرداری ; زرداری پر اعتبار نہیں، گیلانی ملک بچائیں: شہبازشریف ; سری لنکن ٹیم پر حملہ کرنیوالے 3 ارکان گرفتار کرنیکا دعویٰ  
Advertisement

 
اسلامی کالم 

قرب الٰہی کا زینہ....امیر محمد اکرم اعوان


Sunday, 12.14.2008, 12:37pm (GMT)

سورہ العنکبوت کی آیت 45میں مومن کو ایک متوازن اور خوبصورت زندگی بسر کرکے سرخروئی کے ساتھ موت کے دروازے سے گزار کر اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں پیش ہونے کے لئے وسائل و ذرائع بتائے گئے ہیں کہ تلاوت قرآن حکیم کو لازم کرو، صلوٰة قائم کرو کہ نماز یقینا برائیوں اور فحاشیوں سے بچا لیتی ہے اور اللہ تعالیٰ کا ذکر اکبر ہے۔
قرآن حکیم اللہ تعالیٰ کا ذاتی کلام ہے۔ کلام متکلم کی صفت ہوتا ہے۔ یہ صفات باری میں سے ہے جس طرح اللہ کی ذات لامحدود ہے اسی طرح اس کی صفات بھی لامحدود ہیں۔ یہ ازلی اور ابدی ہیں اور کلام باری کی کیفیات و لذات کی بھی کوئی حد نہیں جتنی بار کوئی پڑھے گا ہر بار پہلے سے زیادہ مستفیض ہوگا۔ کلام باری کو بار بار پڑھنے کا حکم بھی اسی لئے ہے کہ کلام باری میں جو کیفیت ہے وہ بندے کی روح میں اتر جائے، اس میں بس جائے۔ کلام الٰہی کی دہرائی ایسی لذت عطا کرتی ہے اور وہ کیف نصیب ہوتا ہے جو اللہ تعالیٰ سے ہمکلام ہونے میں ہے اور یہی بات نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خصوصیات میں سے ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جو کچھ ارشاد فرماتے خواہ وہ قرآن حکیم ہوتا یا حدیث مبارکہ تو بندہ مومن پر نہ صرف الفاظ اور ان کا مفہوم واضح ہوجاتا بلکہ اس کی کیفیت بھی وجود پر وارد ہوجاتی یہی وجہ ہے کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہ نے مکہ المکرمہ میں تکلیفیں اٹھائیں، ہجرت منظور کرلی، عزیزواقارب کو چھوڑنا منظور کرلیا لیکن توحید باری سے انکار نہ کر سکے۔
دنیا و آخرت میں سرخروئی حاصل کرنے کے اسباب بتاتے ہوئے تلاوت قرآن کے بعد دوسری بات اقامت صلوٰة بتائی گئی ہے۔ قیام صلوٰة سے مراد یہ ہے کہ صرف خود ہی صلوٰة کرنے پر اکتفا نہ کریں بلکہ اپنے متعلقین کو بھی کرائیں۔ جہاں تک آپ کی بات کا اثر ہے وہاں تک اس کا اہتمام کریں۔ اس طرح اقامت صلوٰة یقینا ناپسندیدہ اور ممنوع کاموں سے روک دیتی ہے۔ اگر کوئی اور ایمان کے ساتھ، یقین کے ساتھ تلاوت کرے گا، کوئی حضور قلب سے خود کو اللہ تعالیٰ کے سامنے حاضر کرکے صلوٰة ادا کرے اور اہل و عیال کو بھی صلوٰة کا اہتمام کرنا سکھائے تو کوئی وجہ نہیں کہ اس کے معمولات زندگی کی اصلاح نہ ہو اور اگر وہ یہ کام بطور رسم کرے گا یا لوگوں میں اپنی پارسائی کا چرچا کرنے کے لئے کرے گا تو پھر یہ نتائج مرتب نہیں ہوں گے۔ ہمارے معاشرے میں یہ بات عام ہے کہ لوگ قرآن بھی پڑھتے ہیں، نماز بھی پڑھتے ہیں، حج بھی کر آتے ہیں لیکن ان کے کردار کی اصلاح نہیں ہوتی۔ اس کی ایک ہی وجہ ہے کہ ہماری عبادت میں وہ خلوص نہیں ہے۔ اس کے علاوہ اور بھی بہت سی قباحتیں ہیں مثلاًدرست کلمہ نہ پڑھا، اذان کے الفاظ درست نہ کہنا وغیرہ ۔ اگر اس طرح کی عبادات ہوں تو ان پر نتائج کیا مرتب ہوں گے۔ وہ تو مستوجب سزا ہیں۔ سو قیام صلوٰة میں عبادات کی شرائط کو ملحوظ رکھتے ہوئے ادا کرنا جس میں وضو سے ادائیگی صلوٰة تک ہر ہر رکن کی حفاظت شامل ہے اور پھر جہاں تک بندے کی بات سنی جائے، وہاں تک اقامت صلوٰة کا اہتمام کرنا معاشرے میں عبادات کا ماحول بنانا ہے۔ جب معاشرہ اللہ تعالیٰ کی عبادت پر قائم ہوجاتا ہے تو اس کا فوری نتیجہ بھی یہی نکلتا ہے کہ بندہ برائی اور بے حیائی سے الگ ہو جاتا ہے۔ یوں ثواب یعنی اجر دونوں جگہ ملتا ہے۔ دنیا میں یہ اجر ملتا ہے کہ اس کی زندگی پرسکون اور شریعت کے مطابق ہوتی ہے اور مکمل اجر و ثواب تو آخرت میں ہی ملتا ہے۔
ان دو باتوں کے بعد اللہ کریم نے فرمایا : ”ولذکراللہ اکبر“ قرآن حکیم کے مطابق ذکر اللہ کی کئی صورتیں ہیں۔ قرآن حکیم کی تلاوت ذکر ہے، درودشریف اور تسبیح ذکر ہے، جو کام حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سنت کے مطابق کیا جائے، وہ ذکر ہے اور شریعت مطہرہ کے مطابق کمانا، خرچ کرنا، سب ذکر کی صورتیں ہیں۔ جہاد بھی ذکر کی بہت اعلیٰ صورت ہے لیکن عین جہاد میں بھی ذکر اللہ پر کاربند رہنے کا حکم ہے۔ اس کا مطلب ہے لسانی و عملی ذکر کی تمام صورتوں کے علاوہ ذکر کی کوئی اور قسم ہے جو خاص ہے جسے قرآن حکیم نے اکبر کہا ہے، وہ کیا ہے؟ وہ ذکر قلبی ہے یعنی قلب کا اللہ کی یاد کی طرف متوجہ ہوجانا، قلب میں اللہ کی یاد کا بس جانا اور خصوصیت نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ہے کہ جسے حالت ایمان میں حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نگاہ پاک نصیب ہوگئی یا وہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نظر میں آگیا قلب اطہر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نظر میں آ گیا تو قلب اطہر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ایک کیفیت اس کے قلب پر وارد ہوتی ہے۔ بالکل اسی طرح جس طرح صحبت نبوی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے صحبت یافتہ اصحاب رضی اللہ عنہ کی کھال سے لے کر نہاں خانہ دل تک ان کے وجود کا ہر ذرہ ذاکر ہوگیا۔
تعلیمات نبوی میں ہی برکات نبوی موجزن ہیں۔ یہ برکات اتنی مضبوط تبدیلی فکر عطا کرتی ہیں کہ انسان کا کردار اور عملی زندگی حیات آفرین ہو جاتی ہے۔ برکات نبوی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اس نعمت کو قرآن حکیم نے ”ولذکراللہ اکبر“ کہا ہے۔ یہ وہ نعمت ہے جو پورے دین کی روح ہے۔ پورے کا پورا دین ہمیں موروثی طریقے سے ملا ہے۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہما نے سنا، سیکھا، عمل کیا اور دین مکمل شکل میں ہم تک پہنچایا۔ عہد نبوی صلی اللہ علیہ وسلم جامع صفات عہد تھا۔ پھر مختلف لوگوں نے مختلف کام سنبھالے اور دین مختلف شعبوں میں تقسیم ہو کر پڑھایا اور سمجھایا جانے لگا۔ اللہ تعالیٰ نے دین کی خدمت کے لئے اپنے بندوں سے ہر زمانے میں کام لیا اور شعبہ ہائے تفسیر حدیث و فقہ کے ساتھ برکات نبوت صلی اللہ علیہ وسلم کے حصول و ترسیل کا شعبہ بھی وجود میں آگیا۔
القرآن الحکیم دین کی بنیاد ہے جس کی ہر بار تلاوت کرنے سے ایک نیا لطف عطا ہوتا ہے۔ اقامت صلوٰة دین کی اساس ہے۔ دین کو قائم رکھنا ہے تو عبادت کو صلوٰة کو قائم رکھنے پر پوری محنت کرنا لازمی ہے اور معرکہ سر کرنا ہے تو ذکر الٰہی بہت بڑا ہتھیار ہے۔ تاریخ اسلام اس پر گواہ ہے کہ جب بھی اسلام کا حیاءہوا، اس کی بنیاد ذکر الٰہی تھا۔


    Print        Tell friend        Top


Related Articles:
انسان کی حقیقت....عا ئشہ کلیم+
انعامات الٰہی.....تحریر : علامہ محمد خلیل الرحمن قادری+
دل کی بیماری کودورکرنے کا نبوی نسخہ+


Other Articles:
انعامات الٰہی.....تحریر : علامہ محمد خلیل الرحمن قادری (12.14.2008) .
دل کی بیماری کودورکرنے کا نبوی نسخہ (12.14.2008) .



 
All News
تازہ ترین
اہم خبریں
امریکہ کی خبریں
کمیونٹی کی خبریں
بین الاقوامی خبریں
ادارتی کالم
اسلامی کالم
ادبی دنیا
خواتین کارنر
بچوں کی دنیا
کھیل
فلمی دنیا
Hot English News
English News

Newsletter
Your Name:
Your Email:
Submit

 Nida-i-waqt Group News Paper Contact:-  nidaiwaqt@nidaiwaqt.com

All Copy Right Reserved Re-production is strictly Prohibited