|
||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ..:: Hot News: | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
|
ہندوستانی اردو ادیب اور دوطرفہ خیرسگالی: گوپی چند نارنگ سے خصوصی انٹرویو Sunday, 12.14.2008, 11:47am (GMT) نئی دہلی (فارن ڈیسک)نامورادیب، محقق اور دانش ور پروفیسر گوپی چند نارنگ ان اہل قلم میں سے ہیں جو ہندوستان ہی نہیں پاکستان میں بھی بے حد مقبول ہیں اور عزت کی نگاہ سے دیکھے جا تے ہیں۔ اردو کے حوالے سے انہیں ساری دنیا میں جانا جاتا ہے۔ اردو کے جلسوں اور سیمناروں میں شرکت کرنے کے لئے وہ ساری دنیاکا سفر کرتے رہتے ہیں او رانہیں "سفیر اردو " کے طور پر بھی جانا جاتا ہے۔ جہاں انہیں بھارت میں "پدم بھوشن" کا خطاب مل چکا ہے وہیں انہیں پاکستان میں متعدد انعامات اور اعزازات سے نوازا گیا ہے۔ چند ماہ قبل تک وہ بھارت کے سب سے اہم ادبی ادارے ساہتیہ اکادمی کے صدر نشیں کے عہدے پر فائز تھے۔ کراچی آرٹس کونسل کے جلسہ میں بھی وہ اپنی خطابت کے سبب مرکز نگاہ تھے ۔ ایسے میں ممبئی میں دہشت گردی کا واقعہ رونما ہوا ۔جس پر اظہار خیال کرتے ہوئے معروف شاعرہ اور صحافی کشور ناہید اپنے کالم میں لکھتی ہیں۔ "کراچی میں گولیاں چلنا معمول کی بات ہے ایک طرف ممبئی کی خوفناک خبریں اور دوسری طرف جلاؤ گھیراؤ کا منظر ۔ مگر آرٹس کونسل کے کشادہ لان میں آنے والوں نے اپنی جان پر کھیلا اور سنا ان دانشوروں کو جو لاہور ، فیصل آباد ، ملتان ، بلوچستان اور صوبہ سرحد سے آئے تھے ۔ ہندوستان کے 12دانشوروں کو بھی ان علاقے کے سمجھ دار لوگوں کو ان کے خیال سننے کا پہلی بار موقع ملا۔ جی چاہتا ہے کہ یونہی ہندوستان اور پاکستان کے درمیان کم از کم ادب کے ذریعہ ہی محبت اور امن کا فروغ ہو کہ سیاسی قدروں کو تو امن اور مفاہمت کی زندگی بسر کرنی نہیں آتی ہے۔" اس تناظر میں میں نے پروفیسر گوپی چند نارنگ سے ان کے تاثرات جاننے کی کوشش کی اور انہوں نے وائس آف امریکہ اردو کوخصوصی انٹر ویو دیتے ہوئے کہا: "ممبئی میں جو کچھ ہوا اس پر تمام قلم کار تشویش میں مبتلا تھے اور ہم سب نے متحد ہو کر اس کے خلاف آواز اٹھائی۔ سیمینار میں باقاعدہ دہشت گردی کی مذمت میں تجویز پاس کی گئی ۔ کیوں کہ دہشت گردی سماج کا ناسور ہے۔ جو تمام قدروں کو ختم کر دیتی ہے ۔ اس لئے دہشت گردی کے خلاف ادیبوں، شاعروں ، صحافیوں اور دانشوروں کو متحد ہونا پڑے گا ، متحد ہو کر آواز اٹھانی پڑے گی اور جب ان کے ذریعہ آواز اٹھائی جائے گی تبھی اس کا اثر بھی ہو گا۔' میرے یہ سوال کرنے پر کہ جدید ترین اسلحوں کے سامنے قلم کیا کر سکے گا؟ ڈاکٹر گوپی چند نارنگ کا جواب تھا: " قلم کمزور نہیں ہے ، قلم میں بہت طاقت ہے ، قلم ذہنوں کی تعمیر کرتا ہے ، کچھ نوجوان ہیں جنہیں بہکا دیا گیا ہے، جنہیں تعمیر کی جانب لانے کا کام بھی اہل قلم ہی کر سکتے ہیں ۔ آج کے مہذب سماج میں دہشت گردی کی کوئی جگہ نہیں ہو سکتی۔ " میرے یہ پوچھنے پر کہ آپ تو درجنوں بار پاکستان جا چکے ہیں ، مسلسل جاتے رہتے ہیں۔ اتفاق سے اس وقت بھی وہیں تھے جب ممبئی کی سر زمیں پر دہشت گردی کا رقصِ برہنہ ہو رہا تھا اور دونوں ملکوں کے درمیان تلخ کلامی ہو رہی تھی تو وہاں کے لوگوں کے کیا جذبات تھے؟ پروفیسر نارنگ کا جواب تھا " میں جہاں جہاں گیا میرا استقبال بہت پر جوش انداز میں ہوا ہر پروگرام میں لوگ جوق در جوق شریک ہوئے اور تمام ادبا اور شعرا انہیں خیر سگالی کے جذبات کا اظہار کیا ، کسی کے دل میں کوئی نفرت نہیں تھی ، ممبئی کے حالات پر تشویش ضرور تھی لیکن اس کا اظہار تلخ و ترش باتوں سے نہیں ہوا ۔ نہ ہی کہیں کسی کدورت کا اظہا ر کیا گیا ۔ اس لئے میں توسمجھتا ہوں کہ ادیبوں کے درمیان جو درد کا رشتہ پہلے سے تھاوہ اب بھی جاری و ساری ہے اس میں کوئی کمی واقع نہیں ہو ئی ہے، ادیب نفرت کا کاروبار نہیں کرتا یہ کام چند مٹھی بھر ان لوگوں کا ہے جو نفرت کے جذبات کو بھڑکا کر اپنے مقاصد کی تکمیل چاہتے ہیں۔ اگر اہل قلم متحد ہو گئے تو ان کا یہ مقصد پورا نہیں ہو سکتا۔" میرے یہ سوال کرنے پر کہ کیا وہاں کے اہل قلم ایسے ہی جذبات رکھتے ہیں ؟ انہوں نے کہا " قطعی یہی جذبات ہیں۔ احساسات مشترک ہیں اسی لئے ادیبوں کے انجمن نے باقاعدہ اس دہشت گردی کے خلاف مذمت کی تجویز پاس کی اور کھل کر متاثرین سے اظہار ہمدردی کیا۔ " ڈاکٹر نارنگ نے کہا میں تین دنوں تک لاہور میں بھی رہا اور وہاں کئی جلسوں سے خطاب کرنے کا موقع ملا۔ سبھوں میں وہاں کے نامور ادبا اور شعرا اور صحافی موجود تھے۔ کسی کے دل میں قطعی کوئی نفرت نہیں تھی۔ سب بھارت کے تئیں خیر سگالی کے جذبات رکھتے ہیں اور جہاں تک اہل قلم کا سوال ہے وہ دونوں ملکوں کے درمیان تلخی نہیں چاہتے۔ میرا تو عقیدہ ہے کہ دہشت گردی کا مقابلہ قلم ہی کر سکے گا ۔ ادیب، شاعر، صحافی اور دانشور مل کر اس کے خلا ف رائے عامہ تیار کریں گے، جس کے بعد یہ نفرت کا کاروبار خود بخود بند ہو جائے گا۔
|
|
||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
|
||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||