|
|||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ..:: Hot News: | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
|
واشنگٹن میں حلف برداری کی تقریب کی تیاریاں زوروں پر....خالد حمید خان ........واشنگٹن Thursday, 01.15.2009, 09:55pm (GMT) براک اوباما 20 جنوری کو اپنے عہدے کا حلف اٹھائیں گے جیسے جیسے براک اوبامہ کی صدارتی حلف برداری کی تقریب کا وقت قریب آتا جا رہاہے ۔ ویسے ویسے دارالحکومت واشنگٹن میں گہماگہمی بڑھتی جارہی ہے اِس دِن کی اہمیت اور سیکیورٹی کے پیشِ نظر واشنگٹن ڈی سی میں تقریباً آٹھ ہزار سیکیورٹی اہل کار تعینات کیے جائیں گے۔ اِس کے علاوہ واشنگٹن کی طرف آنے والی تمام شاہراہیں بسوں اور کاروں کے لیے بند کر دی جائیں گی۔ اِس لیے لوگ واشنگٹن ڈی سی تک پہنچنے کے لیے پیدل یا مخصوص ٹرینیوں کے ذریعے ہی سفر کر سکیں گے ۔ حلف برداری کی اِس تقریب کے لیے تقریباً تین ماہ قبل ہی واشنگٹن ڈی سی کے تمام ہوٹل بُک ہوچکے ہیں۔ یہاں تک کہ لوگوں نے اپنے گھروں میں کمرے کرائے پہ دے دیے ہیں جِس کی اچھی خاصی قیمت وصول کی گئی ہے۔ مگر لاکھوں افراد رقم کی پروا کیے بغیر اس تاریخی دِن کا حصہ بننے کے لیے بے تاب ہیں۔ حلف برداری کی یہ تقریب جہاں امریکی سیاست کا ایک اہم جزو سمجھا جاتا ہے وہاں یہ دن امریکی عوام کے لیے تعطیلات کا بھی اہم موقع ہوتا ہے۔بیس جنوری کے دن کے لیے واشنگٹن میں جوش و خروش سے تیاریاں جا ری ہیں۔ ہر دکان پہ آپ کو اوباما کی ٹی شرٹ، مَگ، پلیٹیں اور ٹوپیاں دکھائی دیں گی، جنھیں لوگ خرید کر نہ صرف منتخب صدر کے ساتھ یک جہتی کا اظہار کرتے ہیں بلکہ اس سےسیاحوں کو اس تاریخی موقعے کی خاص نشانی یا سووینر حاصل کرنے کا بھی موقع مل جائے گا۔ توقع کی جا رہی ہے کہ بیس جنوری کا دن نہ صرف امریکی تاریخ میں سنگِ میل کی حیثیت سے یاد رکھا جائے گا، بلکہ اسی دن واشنگٹن میں لاکھوں افراد کے اجتماع سے ہوٹلوں، ہوائی کمپنیوں اور دوسری سیاحتی مصنوعات کی فروخت سے امریکہ کی زوال پذیر معیشت کو بھی تقویت ملے گی۔ امریکی صدر بل کلنٹن کے1992 میں اقتدار سنبھالنے کے موقع پر امریکہ کی اندورنی پالیسی سازی کا حصہ رہنے والے ایل فروم کا کہنا ہے کہ سیاست کا اس عمل سے کوئی تعلق نہیں ہوتا۔ وہ کہتے ہیں کہ آپ یہ نہیں کہہ سکتے کہ ہم وائٹ ہائوس میں چار یا آٹھ برس تک رہے۔ ہماری جماعت الیکشن ہار گئی۔ اب نئے لوگ آ گئے ہیں۔ تو اب یہ چابیاں لیں اور کام سنبھالیں۔ ایسا نہیں ہوتا۔ صدر کلنٹن اور صدر بش کے درمیان اختیارات کی تبدیلی کا عمل 2000 ء میں فلوریڈا میں ہونے والے ووٹوں کی گنتی میں دیر کی وجہ سے تعطل کا شکار ہو گیا تھا۔ ڈیموکریٹ الگور اور ری پیبلکن بش کے درمیان ہونے والی لڑائی امریکی سپریم کورٹ تک گئی تھی۔ جہاں بش اپنے حق میں فیصلہ ہونے کے بعد وائٹ ہاؤس کے مکین بنے تھے۔ اور اس میں سیاسی دشواریوں کے باوجود کوئی مشکل نہیں پیش آئی۔ صدر کلنٹن کے پہلے چیف آف سٹاف مارک مک لیرٹی کے مطابق امریکی حکومت کے بے تحاشا حجم کے باعث بہت سی چیزوں کو دیکھنا، سمجھنا ایک مشکل امر ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اس عمل کو منظم انداز سے کام کئے بغیر ممکن بنایا ہی نہیں جا سکتا۔ تمام اداروں پر ترتیب وار کام کرنا پڑتا ہے۔ دفاع، معیشت اور انصاف ،کابینہ کے ذیلی ادارے، سائنسی ادارے، غرضیکہ امریکی اداروں کو سمجھنا اتنا آسان عمل نہیں۔ پال مک نڈلی نے دو مرتبہ محکمہ ِ انصاف کے حوالے سے معلومات کو صدر بش کے سٹاف کے حوالے کیا۔ انہوں نے بتایا کہ اس عمل کے لیے انہیں اپنی ٹیم کے ساتھ دن رات کام کرنا پڑا۔ ان کا کہنا تھا کہ محکمہ انصاف کے حوالے سے مکمل اور جامع معلومات فراہم کرنے کے لیے ہمیں ایک پوری ٹیم درکار تھی۔ متعلقہ افسران کے ساتھ میٹنگز، بجٹ کے حوالے سے اعدادو شمار، لوگوں کی تعداد ، اور دیگر معاملات پر بحث، یہ ایک لمبا اور مشکل عمل ہے، جس کو مختصرا بیان کرنا بے حد دشوار ہے۔ اور یہ کام اس وقت بھی ختم نہیں ہوتا جب نیا صدر قصر ِ صدارت میں داخل ہوتا ہے۔ کلے جانسن کے مطابق جو سن 2000 صدر بش کی ٹرانزیشن ٹیم کا حصہ تھے، اس تمام عمل میں تقریبا ایک سال لگ جاتا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ ہر کوئی ہفتے کے سات دن کام کرتا ہے اور یہ کام کم از کم ڈھائی ماہ تک جاری رہتاہے۔ جبکہ نئی حکومت کے قیام کے بعد بھی اس پر مزید سات سے آٹھ ماہ تک کام ہوتا رہتا ہے۔ یہ ایک بہت مشکل وقت ہے۔20جنوری امریکی تاریخ کا ایک سب سے اہم دن ہوگا۔ اس روز نئے صدر براک اوباما حلف اٹھانے کے بعد وائٹ ہاؤس میں منتقل ہوجائیں گے۔ امریکی نظام حکومت میں اقتدار کی منتقلی کا عمل خوش اسلوبی سے سرانجام پاتا ہے لیکن جنگ کے دور میں اس عمل کی اہمیت قدرے بڑھ جاتی ہے۔ دارالحکومت واشنگٹن ڈی سی کی معروف شاہراہ پنسلوانیا ایونیو پر واقع وائٹ ہاؤس کو دنیا بھر میں طاقت کاسرچشمہ سمجھا جاتاہے۔ امریکی انتظامیہ کے سربراہ کا دفتر ہونے کے ناطے وائٹ واؤس کو امریکی نظام حکومت میں انتہائی اہمیت حاصل ہے۔ کچھ ماہرین کا کہناہے کہ حالیہ کچھ دہائیوں میں اس دفتر کی قوت پارلیمنٹ کے مقابلے میں بڑھ گئی ہے۔ لیکن اسی قوت یا اس کے غیر آئینی استعمال کی وجہ سے یہ دفتر کئی اسکینڈلز کا شکار رہی ہے۔ حالیہ تاریخ میں اس کی ایک مثال وائٹ ہاؤس کا واٹر گیٹ اسکینڈل میں ملوث ہونا ہے جس کی وجہ سے اس وقت کے صدر رچرڈ نکسن کو اپنا عہدہ چھوڑنا پڑا تھا۔ صدر بش کے آٹھ سال وائٹ ہاؤس میں رہنے کے بعد آئندہ چنددنوں میں اسے خالی کردیں گے۔ وائٹ ہاؤس میں ان کے تاریخ ساز دور کو کیسے دیکھا جائے گا؟ تاریخ دان والٹر اینڈرسن کہتے ہیں کہ اس کا دارومدار وائٹ ہاؤس میں آنے والے نئے صدر کی کارکردگی پر ہوگا۔ وائٹ ہاؤس کو ایک مضبوط ادارہ بنانے میں ہر رنگ اور نسل کے امریکیوں نے اپنا کردار ادا کیا ہے۔ تاہم ایسا پہلی بار ہورہا ہے کہ کوئی سیاہ فام خاندان اس تاریخی عمارت میں رہائش رکھنے کے لیے آرہاہے۔ امریکہ میں صدر براک اوباما کا حلف ِ صدارت اٹھانے کا وقت قریب آنے کے ساتھ ساتھ امریکیوں میں اس حوالے سے جوش بھی بڑھتا جا رہا ہے۔ یوں اوباما فیملی کے قصر ِ صدارت منتقل ہونے میں کم دن رہ گئے ہیں۔ اوباما فیملی کا قصر ِ صدارت میں منتقل ہونا پورے ملک کے لیے ہی ایک بڑی بات ہے۔ مگر یہ عمل سب سے بڑھ کر خود اوباما فیملی کے لیے اہم ترین ہے۔ براک اوباما، مشعل اوباما اور ان کی دو بیٹیاں شکاگو میں واقع اپنے تین منزلہ گھر سے دو سو سال پرانے گھر میں منتقل ہو رہی ہیں۔ جو دنیا بھر میں اہمیت کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔ وائٹ ہاؤس کی پہلی منزل پر تاریخی کمرے موجود ہیں۔ جبکہ دوسری منزل ذاتی قیام گاہ کے طور پر استعمال کی جاتی ہے۔ اس منزل پر کل سولہ کمرے ہیں جس میں ایک لیونگ روم، سٹنگ رومز کے علاوہ پانچ بیڈ روم اور ایک کچن ہے۔ یہاں پر اسی افراد پر مشتمل سٹاف بھی ہے۔ مگر مشیل اوباما نے سٹاف کو پہلے ہی بتادیاہے کہ ان کی بیٹیاں مالیا اور ساشا اپنے بستر صاف کرنے کے ساتھ ساتھ اپنے کمروں کو بھی صاف رکھا کریں گی۔ وہ کہتی ہیں کہ اپنی بیٹیوں کو اپنے کام کی عادت خود ڈالنا میری اولین ترجیح ہوگی۔ مگر وائٹ ہاؤس کے ایک عہدے دار گیری والٹرزکا کہنا ہےکہ ذاتی شیف اور بٹلر کے ہونے سے بہت آسانی ہو جاتی ہے۔ وہ صدارتی قیام گاہ کی اس منزل سے بطور ہیڈ وابستہ ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ یہاں نہ صرف ماہر شیف موجود ہیں جو ہر طرح کا پیزا بنانا جانتے ہیں۔ بلکہ مجھے یقین ہے کہ وہ بہت جلد ننھی بچیوں کی پسند کا پیزا بنایا کریں گے۔ ابھی اوباما پر بھی وائٹ ہاؤس کے جوہر کھلنا باقی ہیں۔ یہاں پر ایک سوئمنگ پول اور بالنگ ایلے بھی موجود ہے۔ اور یہاں پر بنے ٹینس کورٹ کو نئے صدر کےپسندیدہ کھیل باسکٹ بال کورٹ میں بھی تبدیل کیا جا سکتا ہے۔ حتیٰ کہ یہاں چھوٹے بچوں کے لیے ایک باغ بھی موجود ہے۔ جو کہ بہت پہلے جون ایف کینیڈی کی بیٹی کیرولینا کینڈی کے لیے بنایا گیا تھا۔ وہ اب اوباما فیملی کو وائٹ ہاؤس میں بچوں کی تربیت کے حوالے سے مشورے دے رہی ہیں۔ منتخب صدر اوباما کا کہنا ہے کہ وہ چاہیں گے کہ ان کے بچے ایک عام زندگی گزاریں۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ اچھے بچے ہیں۔ یہ سب کو عزت دیتے ہیں۔ مجھے امید ہے کہ وہ وائٹ ہاؤس میں آکر بھی یہی رویہ برقرار رکھیں گے۔ جب صدر بش صدر منتخب ہوئے تو انکی بیٹیاں اس وقت کالج میں پڑھتی تھیں۔ چنانچہ اب اس گھر میں بہت عرصے کے بعد چھوٹے بچے رہنے کے لیے آرہے ہیں۔ وائٹ ہاؤس کی عہدے دار مارتھا کمبر کہتی ہیں کہ وائٹ ہاؤس میں نیا سٹاف بالکل تیار ہے اور میرے خیال میں سٹاف ننھے بچوں کے آنے سے خوش ہوگا اور وائٹ ہاؤس کے درو دیوار میں ان کی آوازیں کانوں کو بہت بھلی لگیں گی جیسے جیسے براک اوبامہ کی صدارتی حلف برداری کی تقریب کا وقت قریب آتا جا رہاہے ۔ ویسے ویسے دارالحکومت واشنگٹن میں گہماگہمی بڑھتی جارہی ہے۔ تقریب کے حوالے سے سووئنی ئیرز کی خریدو فروخت بھی اس گہماگہمی کا ایک دلچسپ حصہ ہے۔ امریکہ کے نئے صدر کے استقبال کی تیاریاں وائٹ ہاوس میں تو جاری ہیں ہی مگرواشنگٹن کی گلیوں میں بھی امریکی تاریخ کے اس نئے باب کے استقبال کی تیاریاں عروج پر ہیں ۔جا بجا تقریب کے حوالے سےسووئنی ئیرز فروخت ہوتے ہوئے دکھائی دے رہے ہیں اور وقت کے ساتھ ساتھ ان کی مانگ بڑھ رہی ہے۔ ان کے خریدنے والوں میں غیر ملکی بھی شامل ہیں۔برطانیہ سے آئے ایک سیاح کا کہنا تھا کہ اس قسم کی اشیا برطانیہ میں دستیاب نہیں۔ ہم انہیں برطانیہ لے جائیں گے۔ یہاں پر سبھی کچھ دستیاب ہے۔ پچاس سینٹ کی پنسل سے لے کر نو ہزار ڈالر تک کے اوول آفس ڈیسک تک۔ جم والکر نے استقبالیہ تقریب کی مناسبت سے چھ ایسے اسٹورز کھولے ہیں جہاں یہ سووینئیرز دستیاب ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ ہم مزید پچھتر لوگوں کی خدمات حاصل کر رہے ہیں۔ اور ہم پوری رات یہ دکانیں کھلی رکھیں گے۔
واشنگٹن کی گلیوں میں جا بجا باراک اوباما کے متعلق بنی چیزیں بکتی دکھا ئی دے رہی ہیں۔ دکاندار کا خیال ہے کہ ان کی اشیاء کی خریداری میں زبردست اضافہ ہوگا۔
امریکہ کے نومنتخب صدر بارک اوباما کامک کہانیوں کی دنیا میں ا پنے بچپن کے ہیرو سپائیڈر مین کے ساتھ نمودار ہوں گے۔ اس باتصویر کہانی یا کامک کو اشاعتی ادارہ مارویل کامکس 14 جنوری کو شائع کررہا ہے۔
یہ کہانی واشنگٹن میں 20 جنوری کی کہانی ہوگی جب مسٹر اوباما صدر کی حیثیت سے اپنے منصب کا حلف اُٹھائیں گے۔ کہا نی میں سپائیڈر مین کو پتا چلتا ہے کہ اُس کا ایک پُرانا دشمن حلف برداری کی تقریب کو درہم برہم کرنے کی کوشش کررہا ہے ۔ چنانچہ تقریب کو بچانے کے لیے سپائیڈر مین میدان میں کود پڑتا ہے۔ مارویل کا کہنا ہے کہ جب ادارے کے ایڈیٹروں کو پتا چلا کہ نومنتخب صدر اوباما بچپن میں سپائیڈر مین کی کہانیاں جمع کیا کرتے تھے تو اُنہوں نے اسی وقت ان دونوں تاریخی شخصیتوں کو یکجا کرنے کی ٹھان لی تھی۔
لیکن باراک اوباما کے سامنے اب یہ چیلنج ہے کہ تاریخ ان کو تبدیلی کی صرف علامت کے طور پر ہی نہیں بلکہ اس تبدیلی کو عمل میں لانے کے ذمہ دار شخض کے طور پر یاد رکھے۔ باراک اوباما ایک انتہائی کامیاب صدارتی امیدوار رہے۔ نہ صرف وہ ایک بہترین مقرر ہیں بلکہ انتخابی مہم کے حوالے سے ایک بہترین منتظم بھی۔ عالمی سطح پر باراک اوباما کے لیے نیک خواہشات پائی جاتی ہیں جس کی شائد اہم وجہ یہ ہے کہ وہ جارج ڈبل یو بش نہیں ہیں۔ یہ خواہشات اپنی جگہ لیکن اوباما کے سامنے سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ امریکی معیشت کو کس انہوں نے پچانوے فیصد امریکیوں کے لیے ٹیکس میں رعایت کرنے کا وعدہ کیا ہے اور صحت اور تعلیم کے نظام کو بہتر بنانے کا بھی۔ اس کے لیے کافی بڑی رقم درکار ہے لیکن باراک اوباما کو ایسی معیشت مل رہی ہے جس میں سالانہ خصارہ ہی اربوں ڈالر کا ہے اور جس میں قومی قرض ہی گیارہ کھرب ڈالر کے قریب ہے۔ اوباما نے اپنی انتخابی مہم کے دوران قوم کو متحد کرنے کی بات کی۔ اب بطور صدر ان کو امریکی معاشرے کے تمام طبقوں میں ساتھ مل کر کام کرنے کا جذبہ پیدا کرنا ہوگا۔ انتخابی مہم کے دوران باراک اوباما نے رابطوں کے جدید طریقوں کو موثر طرح سے استعمال کیا اور توقع ہے کے ان کی صدارت میں انٹرنیٹ کا اہم کردار رہے گا۔ جہاں تک خارجہ پالسی کا تعلق ہے اس کا بھی اوباما کی صدارت میں مرکزی کردار رہے گا۔عراق سے فوج نکالنے کا کوئی ایسا منصوبہ بنانا ہوگا جس میں ایران صورتحال کا فائدہ نہ اٹھا سکے۔ ایران کے جوہری پروگرام کے سوال کو بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکے گا، اور دیکھنا یہ ہے کہ باراک اوباما اسرائیل اور اپنے ہی فوجی کمانڈروں کے اس دباؤ پر کیا فیصلہ کریں گے کہ ایران کے جوہری ری ایکٹر پر حملہ کرنا مناسب حکمتِ عملی ہے۔ افغانستان کے حوالے سے باراک اوباما یہ کہتے رہے ہیں کہ وہاں امریکی فوجیوں کی تعداد بڑھا کر القاعدہ کو حتمی طور پر شکست دینا چاہیے۔ یہ بھی آسان عمل نہیں ہے اور اگر اس میں کامیاب نہ رہے تو ان کی ساکھ بری طرح متاثر ہوگی۔ اس معاملے میں پاکستان سے تعلقات بھی اہم ہیں۔ افغانستان میں جنگی کارروائی میں پاکستانی سرحدوں کی پامالی کا خیال رکھنا ہوگا اور دیکھنا ہے کہ اوباما یہ کس طرح کر سکیں گے۔ باراک اوباما کا انتخاب تاریخی ہے لیکن اب اپنے دورِ صدارت کو بھی تاریخی بنانے کے لیے ان کو بہت کچھ کرنا ہوگا کیونکہ ان سے توقعات بہت ہیں۔ امریکی معیشت ہر روز ایک نئے دھچکے کی زد میں ہے اور سٹاک مارکیٹس کے اعدادو شمار ہر روز مندی کا اشارہ دے رہے ہیں۔ امریکی حکومت بالآخر اعتراف کر چکی ہے کہ معیشت دسمبر 2007سے سست روی کا شکار ہےجبکہ ماہرین معاشیات امریکی معیشت کو ایک دوسرے گریٹ ڈپریشن میں جاتا ہوا دیکھ رہے ہیں۔ گریٹ ڈپریشن کیا ہے؟ جب آباد شہروں میں ویرانی کا ڈیرہ ہوجائے۔ شہر کے چوک میں ،بیچ سڑک پر ،کوڑے کے ڈھیر سے کھانے پینے کی چیزیں ڈھونڈتے ہوئے لوگ نظر آئیں، بے روزگاری عام ہو،ہزاروں پریشان چہرے ہر قسم کا کام معمولی قیمت پر کرنے کے لیے تیار ہوں، مفت لنگروں کےباہر لمبی قطاریں لگی ہوں ، مایوس مائیں بھوکے بچوں کو بہلانے میں ناکامی کے بعد غیب سے مدد کا انتظار کر رہی ہوں اور یہ سب کچھ کہانیوں کی کتاب کے جھوٹے قصے نہ ہوں بلکہ حقیقت کی تلخ شکل میں اپنا وجود رکھتے ہوں تو ایسی صورت حال کو گریٹ ڈپریشن کہا جاتا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ پھر جیسے جیسے حکومت کی آمدنی کم ہوئی تو اس نے اپنے اخراجات میں کمی کردی۔ اس کے علاوہ مرکزی بینک نے بینکوں کی مدد کرنے کے بجائے سود کی شرح بڑھا دی جس سے بینکوں کی حالت مزید خراب ہو گئی اور ہزاروں کی تعداد میں بند بند ہوگئے۔ جب معاشی ترقی رک گئی تو بے روزگاری بڑھ گئی اور غربت میں اضافہ ہوگیا۔ 1932میں بے روزگاری کی سطح25فیصد تھی۔ قیمتوں میں تیس فیصد تک کمی ہوگئی تھی اور امریکہ ایک شدید بحران میں مبتلا ہوگیاتھا۔ امریکہ کی موجودہ معاشی صورت حال کا ذکر کرتے ہوئے زبیر اقبال نے کہا کہ ابھی تک یہ معاشی بحران نہیں ہے۔ ابھی تک تو صرف مالیاتی بحران ہے۔ لیکن اگر اس سے مناسب طریقے سے نمٹا نہ گیا تو یہ معاشی بحران میں تبدیل ہوسکتا ہے۔ اس کی وجوہات کیا ہیں ؟اس وقت تو تین یا چار وجوہات سامنے آتی ہیں۔ ایک تو یہ ہے کہ چونکہ پچھلے دس بارہ سال میں کافی ڈی ریگولیشن ہو گئی تھی۔ حکومت کو معلوم ہی نہین تھا کہ بینک کس قسم کے قرضے دے رہے ہیں۔ اور ان کا کیا اثر ہوگا۔ بینکوں پر کوئی کنٹرول نہیں تھا۔ بینک جس قسم کا بھی چاہتے تھے وہ قرضہ دے رہے تھے۔ اور وہ ضابطوں اور نگرانی کی پابندی نہیں کرتے تھے ، یا کچھ کرتے تھے باقی نہیں کرتے تھے۔ خاص طور پر آپ نے سنا ہی ہے کہ مورگیج فنانس کی یہ حالت ہوگئی تھی کہ ایسے افراد کو بھی قرضے جاری کردیے گئے جو ادائیگی کی صلاحیت ہی نہیں رکھتے تھے۔ دوسری وجہ یہ ہے کہ پچھلے چھ سات سال میں دنیا کی معیشت میں ایک یہ تبدیلی آئی کہ کچھ ملکوں کی برآمدات فاضل ہوگئیں اور اکثر ممالک اس حوالے سے خسارے میں چلے گئے۔ اب چونکہ چین جاپان اور تیل پیدا کرنے والے ممالک کے پاس بڑی مقدارسرمایہ موجود ہے۔ لیکن چونکہ امریکہ میں مالیاتی پالیسی بہت نرم تھی۔ سود کی شرح کم تھی۔ جب قرضے ڈوبنے شروع ہوئے تو ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ سود کی شرح بڑھائی جاتی کیونکہ سود کی شرح بڑھنے سے قرضوں کی طلب کم ہوجاتی ہے اور صورت حال پر قابو پانا آسان ہوجاتا ہے۔ لیکن ہوا یہ کہ بینکوں میں لیکوڈٹی کی کمی نہیں ہوئی۔ جس کی وجہ سے بینکوں کے انٹرسٹ ریٹ نہیں بڑھے اور قرضے بڑھتے چلے گئے اور پھر مقام پر پہنچ گئے جو ایسے لوگوں کو بھی قرضے مل گئے جو واپس نہیں کرسکتے تھے۔ ایک اور چیز یہ ہوئی کہ پچھلے پندہ سال میں امریکہ میں اور دوسرے ترقی یافتہ ملکوں میں بھی فنانشل انجنیئرنگ بہت بڑھ گئی جسے شیڈو بینکنگ بھی کہتے ہیں،وہ شروع ہو گئی اوراس میں نئے انسٹرومنٹس بننے شروع ہو گئے۔ ان کا بینکنگ کے ساتھ کوئی تعلق نہیں تھا اوران پر کوئی کنٹرول بھی نہیں تھا۔ جس کی وجہ سےمالیاتی مارکیٹ میں غیر یقینی پیدا ہو گئ، لوگوں نے قرضے لینے اور بینکوں ن قرضے دینے بند کر دئے۔ جیسے ہی لیکویڈٹی کم ہوئی اور کریڈٹ سپلائی کم ہو گئی تو بینکوں کی بیلنس شیٹس اور خراب ہوگئیں اور پھر کئی بینک فیل ہو گئے۔ مالیاتی بحران کے حل کا ذکر کرتے ہوئے زبیر اقبال نے کہا کہ حکومت نےکئی اقدامات کیے ہیں۔ ایک تو سات کھرب ڈالر کا جو بیل آوٹ پیکج ہے۔ اس کا مقصد یہ ہے کہ بینکوں کی مالی صورت حال کو بہتر بنانا ہے۔ دوسرا پیکیج امید ہے کہ اگلے سال کے شروع میں ہو آئے گا۔ اس کےساتھ ساتھ ملازمت کے مواقع بڑھیں گے اور پرائیویٹ سیکٹر کی سرمایہ کاری میں بھی اضافہ ہوگا۔ لیکن اس میں وقت لگے گا۔ عام طورپر صورت حال بہتر ہونے میں ایک سال سے ڈیڑھ سال کا عرصہ لگتا ہے۔ جس کا مطلب یہ ہے کہ امریکی اور یورپی معیشت اگلے ڈیڑھ دو سال تک مشکل میں رہے گی اور اگر یہ اقدمات نہ کئےجاتے تو پھر گریٹ ڈپریشن کی طرح یہاں بے روزگاری بڑھ جاتی اور پیداوار کی شرح بالکل ہی کم ہو جاتی۔ یہ پہلا موقعہ ہے کہ اس مسئلے کو عالمی سطح پر حل کرنے کے اقدامات کیے جارہے ہیں گروپ بیس کے ممالک اس سلسلے میں اکٹھے ہوئے تھے اور انہوں نے اس بارے میں کئی فیصلے کیے جس کا پاکستان سمیت سب کو فائدہ ہوگا۔ امریکی کارکنوں سے متعلق دو تازہ رپورٹوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ امریکی معیشت مشکل تر وقت کی جانب بڑھ رہی ہے۔ امریکی محکمہٴ محنت نے کہا کہ بے روزگاری کی سہولتیں حاصل کرنے والے امریکیوں کی تعداد 38 لاکھ سے تجاوز کرچکی ہے جو گذشتہ 25 سال کی بلند ترین سطح ہے۔ محکمہٴ روزگار کی ایک اور رپورٹ میں کہاگیا ہے کہ کارکنوں کی کارکردگی کی شرح میں جولائی سے ستمبر کے تین مہینوں کے دوران پچھلی سہ ماہی کی نسبت کمی آئی ہے۔ کارکنوں کی کارکردگی وہ پیمانہ ہے جس کے ذریعے کسی کارکن کی فی گھنٹہ پیداوار کا تعین کیا جاتا ہے۔ رپورٹ میں یہ بھی بتایا ہے کہ مزوری کے اخراجات میں تین اعشاریہ چھ فی صد اضافہ ہوا ہے۔ کچھ معاشی ماہرین کا کہناہے کہ کارکردگی میں کمی اور مزوری میں اضافے کے باعث مزید کارکنوں کو فارغ کیا جاسکتا ہے۔ ایک اور خبر کے مطابق اکتوبر کے مہینے میں اہم امریکی اسٹوروں کی ، جن میں میسی اور دوسری لمیٹڈ کمپنیاں شامل ہیں، فروخت میں کمی ہوئی ۔ دنیا میں پرچون اسٹور وں کے سب سے بڑے سلسلے 'وال مارٹ'نے کہا ہے کہ عام ضرورت کی اشیا کی قیمتیں گھٹا نے سے اکتوبر میں اس کی فروخت دو فی صد بڑھ گئی۔ امریکی معیشت کو اکتوبر میں دو لاکھ 40ہزار ملازمتیں ختم ہونے کا نقصان اٹھانا پڑا جس سے بے روزگاری کی شرح بڑھ کر چھ اعشاریہ پانچ صد ہوگئی ہے۔ محکمہٴ محنت کی جانب سے جمعے کو جاری ہونے والی ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ گذشتہ 14 برسوں میں یہ بے روزگاری کی اونچی ترین شرح ہے۔ رپورٹ کے مطابق اس سال امریکی معیشت میں ختم ہونے والے ملازمتوں کی تعداد 12 لاکھ تک پہنچ گئی ہے۔ معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ امریکہ میں ملازمتوں کی صورت حال خراب سے خراب تر ہورہی ہے ۔ ملازمتوں میں زیادہ ترکمی مصنوعات ، تعمیرات اور مالیاتی اداروں میں ہوئی ہے۔ امریکہ کے نومنتخب صدر بارک اوباما نے کہا ہے کہ انہوں نے اپنی اقتصادی ماہرین کی ٹیم کو ہدایت کی ہے کہ وہ کوئی ایسا منصوبہ تیار کرے جس کے ذریعے جنوری 2011ءتک 25 لاکھ نئی ملازمتیں پیدا کی جاسکیں۔ مسٹر اوباما نے ریڈیو پر اپنی تقریر میں کہا ہے کہ اقتصادی بحالی کے لیے اُن کے منصوبے کی تفصیلات پر ابھی کام ہورہا ہے، لیکن انہوں نے وعدہ کیا ہے کہ وہ 20 جنوری کو اپنے عہدے کا حلف اُٹھانے کے بعد جلد ہی اُس پر دستخط کردیں گے۔ نو منتخب صدر کا کہنا ہے کہ اُن کا دو سالہ منصوبہ مضبوط اور بڑھتی ہوئی معیشت کے لیے بنیاد فراہم کرے گا اور سڑکوں کی از سرِ نو تعمیر، سکولوں کو جدید دور سے ہم آہنگ کرنے اور توانائی کی نئی ٹیکنالوجیز تیار کرنے کے شعبوں میں لوگوں کو روز گار فراہم کرے گا۔ صدر بش نے اپنی ایک پریس کانفرنس میں ، جسے انہوں نے اپنے آٹھ سالہ دور اقتدار کی آخری پریس کانفرنس کا نام دیا، کئی ایسی باتیں کہیں جو میڈیا اور تجزیہ کاروں کا موضوع بن گئیں۔ انہوں نے خاص طورپر دعویٰ کیا کہ ان کے اقدامات کی وجہ سے دنیا میں امریکہ کا امیج بہتر ہوا ہے اور امریکی پہلے سے زیادہ محفوظ ہوگئے ہیں۔ وائس آف امریکہ نے ایک سینیئر تجزیہ کار ڈاکٹر نثار چوہدری سے اس حوالے سے انٹرویو کیا۔ صدربش کی پریس کانفرنس پر گفتگو کرتے ہوئے ڈاکٹر نثار چوہدری نے کہا کہ صدر بش بلاشبہ امریکی تاریخ کے ایک طاقت ور صدر تھے لیکن اس کے ساتھ ساتھ انہیں زمینی حقائق کا صحیح طور پر ادارک نہیں تھا۔ چنانچہ انہوں نے جو بڑے بڑے فیصلے کیے ، ان سے امریکہ کے لیے مشکلات میں اضافہ ہوا۔ ڈاکٹر نثار چوہدری کا کہنا تھا کہ صدر بش نے اپنے آٹھ سالہ دور اقتدار میں عالمی سطح پر کئی اہم اقدامات کیے مگر ہر ایک کو ادھورا چھوڑ دیا۔ نئے آنے والی انتظامیہ کو وہ اپنے ادھورے اور الجھے ہوئے اعمال ورثے میں دیے جارہے ہیں جنہیں سلجھانا نئی انتظامیہ کے لیے بہت دشوار ہوگا۔ انہوں نے افغان جنگ شروع کی مگر اسے درمیان میں چھوڑ کر بڑے پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں کی تلاش میں عراق چلے گئے۔ وہاں بڑے ہتھیار تو نہ ملے لیکن بڑے پیمانے پر تباہی ضرور ہوئی۔ پھر انہوں نے اسرائیل اور فلسطین کا مسئلہ سلجھانے کی ٹھانی اور دنیا کو یہ نوید سنائی کہ ان کےکرسی صدارت چھوڑنے سے قبل خطے میں ایک فلسطینی ریاست قائم ہوجائے گی لیکن ہوا یہ کہ اسرائیل فلسطینیوں پر ٹنوں کے حساب سے بارود برسا رہا ہےاور بڑے پیمانے پر بے گناہ فلسطینی ہلاک ہورہے ہیں۔ پھر انہوں نے پاکستان اور بھارت کو ایک دوسرے کے قریب لانے کے لیے امن کا عمل شروع کرایا مگر آج دونوں ملکوں کے درمیان بدگمانی کا یہ عالم ہے کہ ایک بڑی جنگ کے خطرے کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔ ڈاکٹر نثار چوہدری کا کہنا تھا صدر بش کی پالیسیوں سے امریکہ کے اندر بھی مسائل نے جنم لیا جس کی واضح مثال اقتصادی اور مالیاتی بحران ہیں۔ جن کا موازانہ 1930 کے بدترین بحران معاشی بحران سے کیا جاتا ہے۔ ملک میں بڑے پیمانے پر بے روزگاری ہے۔ اور بھی کئی مسائل موجود ہیں۔ نئی انتظامیہ کے لیے صدر بش کی وراثت کے حوالے سے ڈاکٹر نثارچوہدری کا کہنا تھا کہ انہیں وراثت میں ایسے مسائل مل رہے ہیں جنہیں حل کرنا ایک دشوار اور صبر آزما کام ہے پاکستان میں ملکہ ترنم نورجہان نے اپنی زندگی میں بے شمار نغمے گائے جن میں سے بہت سے نغموں نے مقبولیت کے ریکارڈ قائم کیے اور کئی ہمیشہ کے لیے امر ہوگئے۔ یہی وجہ ہے کہ آج جب کہ انہیں ہم سے بچھڑے کئی سال ہوچکے ہیں، ان کے بہت سے نغمے بڑے شوق سے سنے جاتے ہیں۔ رولنگ سٹون میگزین نے ارتھا فرینکلن کو تمام زمانوں کے بہترین گلوکاروں کی فہرست میں پہلے نمبر پر جگہ دی ہے۔ وہ کئی بار گرامی ایوارڈ جیت چکی ہیں اور یہ اعزاز بھی انہیں کے حصے میں آیا ہے کہ بل بورڈ کے 100 چوٹی کے نغموں میں ان کے 45 نغمے شامل ہیں۔
تقریب کے ایگزیکٹو پروڈیوسر جارج سٹیونز جونیئر کے مطابق باراک اوباما کی حلف برادری کے جشن میں شرکت کے لیے ستاروں کی 'بے تابی' ان کے لیے خاصی حیران کن ہے۔ انہوں نے بتایا کہ 'پہلے دن ہم نے سپرنگ سٹین، بونو اور گارتھ بروکس سے شرکت کے بارے میں دریافت کیا اور پینتالیس منٹ کے اندر اندر ہمیں تینوں کی جانب سے مثبت جواب موصول بھی ہوگیا'۔ جارج سٹیونز جونیئر کے مطابق اس محفل موسیقی کا مرکزی خیال قومی اتحاد ہے اور انہوں نے اس تقریب کے لیے مختلف نوعیت سے فنکاروں سے رابطہ کیا ہے۔ تاہم جارج کے مطابق اس محفل میں بڑے بڑے ستارے شریک ہو رہے ہیں'لیکن یہ شوبز کی کسی جگمگاتی تقریب کی طرح نہیں ہوگا'۔
خیال رہے کہ باراک اوباما کی حلف برداری کے دن بھی واشنگٹن کے ہرمن سنٹر آف آرٹس میں ایک کانسرٹ منعقد ہو رہا ہے جس میں سٹنگ اور ایلوس کاسٹیلو جیسے گلوکار اپنے فن کا مظاہرہ کرنے والے ہیں۔
|
|
|||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
|
|||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||