Home FAQ RSS Links Site Map Contact
..:: Hot News: علم بغاوت بلند کردیا،اب فیصلہ سڑکوں پرہوگا: نواز شریف کا ریلی سے خطاب ; زرداری نے نواز شریف کو بڑا بھائی کہہ کر پیٹھ میں چھرا گھونپا: شہباز شریف ; نواز شریف سے مفاہمت کیلئے تیار ہوں: زرداری ; زرداری پر اعتبار نہیں، گیلانی ملک بچائیں: شہبازشریف ; سری لنکن ٹیم پر حملہ کرنیوالے 3 ارکان گرفتار کرنیکا دعویٰ  
Advertisement

 
ادارتی کالم 

نتیجہ اللہ پر......ناتمام .....ہارون الرشید


Tuesday, 01.13.2009, 05:42pm (GMT)

علقمہ خیر الدین کی بات مجھے بہت اچھی لگی .... بات نہیں، ان کا پورا رویہ اور انداز فکر۔ ایک طویل بحث کے اختتام پر انہوں نے یہ کہا :جب کوئی پیچیدگی آ پڑے تو آدمی کو سچائی ، انصاف اور خود داری پر قائم رہنا چاہئے اور نفع و نقصان کو اپنے اللہ پر چھوڑ دینا چاہئے۔ ان کےساتھ ہونےوالی زیادتی اور احکامات کی بربادی پر صدمہ تھا مگر اب خوش گوار حیرت ہوئی اور دل کو جیسے قرار سا آگیا۔ فون بند کرتے ہوئے انہوں نے اضافہ کیا : محبت کرنے والے کی توجہ اور عنایت ایک عظیم اثاثہ ہے، میرے لئے دعا کیجئے اور اہل دل سے درخواست کیجئے کہ دعاﺅں میں یاد رکھا کریں۔ سبحان اللہ، کیسا عجیب آدمی ہے۔ امتحان میں صبر اور سچائی کا دامن تھامے رکھنا زندگی کی عظیم ترین نعمتوں میں سے ایک نعمت ہے، جو اس خاکداں پہ فانی انسان کو حاصل ہو سکتی ہے۔
علقمہ خیر الدین ملتان کی بہاﺅالدین ذکریا یونیورسٹی میں پولیٹیکل سائنس کے استاد ہیں۔ محترم اور مقبول۔ وہ تحریک پاکستان کے کارکن اور پاکستان میں جمہوری تحریکوں کے رہنما خواجہ خیر الدین کے فرزند ہیں۔ ڈھاکہ کے اس مشہور نواب خاندان سے ان کا تعلق ہے۔ جس کے ایک فرزند خواجہ ناظم الدین ، پاکستان کے وزیر اعظم تھے جنہیں سفاک غلام محمد نے الگ کر دیا تھا اور ملک میں جمہوریت کی گاڑی پٹڑی سے اتر گئی۔ ایسا ہی دوسرا حادثہ اس نادر روزگار سیاستدان حسین شہید سہروردی کے ساتھ پیش آیا تھا۔ لیاقت علی خان کی شہادت کے بعد افسر شاہی کے کارندے غلام محمد اور سکندر مرزا اس ملک کی پشت پر سوار ہو گئے۔ ان کی سیاہ سازشوں نے فوجی قیادت کی راہ ہموار کر دی۔ پھر رہی سہی کسر فیلڈ مارشل ایوب خان نے پوری کی۔ 1970ءکے الیکشن میں اکثریت حاصل کرنے والی عوامی لیگ کو اقتدار دینے سے انکار کر دیا گیا۔ مشرقی پاکستان کو مسلسل یہ پیغام دیا جاتا رہا کہ طاقت کا سرچشمہ پنجاب اور سندھ ہیں اور مرکز کی اطاعت کے سوا ان کے لئے کوئی راہ کشادہ نہیں۔ بنگالی مسلمانوں کی پارٹی عوامی لیگ جیتی تو پاکستان کے فوجی حکمران یحییٰ خان اور وڈیرے ذوالفقار علی بھٹو کے اتحاد نے اقتدار منتقل کرنے سے گریز کیا۔ دونوں اپنا حصہ طلب کرتے رہے۔ مشرقی پاکستان میں ناراضی کی لہر بے قابو ہو کر خون ریز احتجاج تک پہنچی۔ پھر بھارت بروئے کار آیا اور سوویت یونین کی علی الاعلان تائید اور امریکہ کی خاموش رضامندی سے انہوں نے پاکستان کو دو لخت کر دیا اور مجبور پاکستانی عوام آنسو بہانے کے سوا کچھ بھی نہ کر سکے۔ آخری تجزیئے میں حکمران اور افواج نہیں، قوم ہی اپنے ملک کی محافظ ہوتی ہے۔ اگر وہ بے خبر ہو یا نہتی ہو تو حادثات کے حوالے ہو جاتی ہے۔
1974ءمیں ذوالفقار علی بھٹو بنگلہ دیش کے دورے پر گئے تو فیض احمد فیض ان کے ہمراہ تھے۔ واپسی پر انہوں نے وہ مشہور غزل لکھی:
ہم کہ ٹھہرے اجنبی اتنی مداراتوں کے بعد
پھر بنیں گے آشنا کتنی ملاقاتوں کے بعد
برس پہلے کا فیض صاحب کے ہاتھ کا لکھا مسودہ میرے کاغذات میں رکھا تھا۔ اگر میں ڈھونڈ پاتا تو چوم کر اپنے زخم ہرے کرتا۔ ایک بڑا شاعر کس طرح ہمارے محسوسات کو الفاظ عطا کرتا ہے اور ہمیشہ باقی رہنے والی تصویر وجود پاتی ہے۔ 1971ءکے المیئے پر ہر پاکستانی کا دل زخمی تھا مگر ہم بیان نہ کر پائے اور اندمال تو قطعی نہیں۔ خود شکنی پر تلی اور تعصبات کی ماری کسی بھی ژولیدہ فکر قوم کی طرح، ہم صرف خواب دیکھتے رہے۔
ایک ماہ پہلے، ایسے بہت سے پاکستانیوں کے لئے وہ ایک سعید ساعت تھی جب سرگوشیوں میں اطلاع ملی کہ خواجہ خیرالدین کے فرزند علقمہ خیر الدین بنگلہ دیش میں پاکستان کے سفیر نامزد کر دیئے گئے۔ ان کے مرحوم والد سے جو 1971ءمیں اسیر ہو گئے اور 1974ءمیں رہائی کے بعد پاکستان آ گئے، میرے بڑے بھائیوں کے ذاتی مراسم تھے اور اخبار نویس کی حیثیت سے کئی بار ان سے ملاقات ہوئی لیکن زندگی کیسی عجیب ہے کہ جناب علقمہ خیر الدین سے کبھی تعارف تک نہ ہوا۔ 1970ءاور 1971ءکے عظیم حادثات کے ہنگام، والد کی خواہش پر وہ یہاں چلے آئے تھے اور انہی کی آرزو پر اول گورنمنٹ کالج لاہور اور پھر برطانیہ کی ایک یونیورسٹی سے تعلیم پا کر تدریس سے وابستہ ہوئے۔ حتیٰ کہ بہاﺅالدین ذکریا یونیورسٹی میں ڈین کے منصب تک جا پہنچے ہیں۔
اب کی بار 17دسمبر کا دن قریب آیا تو سقوط ڈھاکہ پر لکھنے کے لئے محققین کی تلاش شروع کی کہ کھری بحث اور ماہرین کی رہنمائی سے تازہ افکار اور امکانات کے در کھلتے ہیں۔ مشترکہ دوستوں نے علقمہ خیر الدین کے بارے میں بتایا اور وہ ایسے بھلے آدمی نکلے کہ جیسے ہی فون پر درخواست کی وہ اپنی اہلیہ کے ہمراہ ملاقات کے لئے ملتان سے لاہور روانہ ہو گئے۔ ایک سادہ، بے تکلف اور انصاف پسند آدمی، جس کی زند گی مشرقی اور مغربی پاکستان کے تعلقات پر تحقیق میں گزری تھی اور جو تعصبات سے بالا ہو کر رائے دے سکتا تھا۔ تاثرات اور تجزیوں میں اختلاف بھی تھا اور ایک آدھ نکتے پر بہت شدید مگر صاحب ظرف آدمی کی شائستگی کا بہرطور لحاظ رکھنا پڑتا ہے، گاہے یہ خیال بھی آتا کہ میں انہیں زیادہ جانتا نہیں اور مداح ہو جانے میں تعجیل سے کام لیا مگر ایسا بے ریا آدمی آپ کو محبوب نہ ہو تو کیا ہو؟ .... پھر انہیں بہت قریب سے جاننے والی ایک شخصیت نے مجھ سے کہا : وہ جو اعلیٰ اخلاق صوفیوں میں پائے جاتے ہیں، ان کے بہت سے امکانات اس شخص میں فطری طور پر موجود ہیں۔ المناک اور خوں ریز واقعات کے پس منظر میں پروان چڑھنے والا طالب علم اور استاد، محبت کا پیکر تھا۔ انسانی کمزوریوں کو معاف کر دینے اور صبر کر لینے والا امید پرست ۔ دی نیوز کے رﺅف کلاسرہ بنگلہ دیش کی انتخابی مہم کے تیوروں سے اہل پاکستان کو باخبر رکھنے ڈھاکہ گئے تو میں ان کی خبریں اور تجزیئے انہماک سے پڑھتا رہا۔ ایک دن انہوں نے اطلاع دی کہ عوامی لیگ کی نو منتخب حکومت نے انہیں سفیر کے طور پر قبول کرنے سے انکار کر دیا ہے۔ ان سب لوگوں کو صدمہ پہنچا جو سمجھتے تھے کہ نیک نیتی سے کی جانے والی طویل المیعاد منصوبہ بندی سے زخم بتدریج مندمل ہو سکتے ہیں اور خواجہ اس کے لئے بہترین آدمی ہونگے۔ بہت سے پاکستانی ایسے کسی منصوبے میں رضاکارانہ امداد پر آمادہ تھے۔ خود میرے دل میں اس سے پہلے بنگال جانے کی آرزو کبھی پیدا نہ ہوئی تھی لیکن اب موسم بہار میں، میں ان سے ڈھاکہ میں ملاقات کا خواب دیکھ رہا تھا۔ عوامی لیگ کا مسئلہ کیا ہے؟ علقمہ خیر الدین سے انہیں کیا شکایت ہے؟ اس نے خالدہ ضیاءکی مبینہ کرپشن اور 1971ءکے جنگی مجرموں کو سزا دینے کے منشور پر الیکشن لڑے اور یا للعجب خواجہ خیر الدین کا نام جنگی مجرموں میں شامل تھا، جنہیں مٹی اوڑھے زمانہ گزر گیا۔ علقمہ ان کے فرزند ہیں۔ لہٰذا قصور وار۔ بعض پاکستانی اخبار نویسوں کا تاثر یہ تھا کہ حالیہ الیکشن کے بعد ڈھاکہ میں بھارت کا اثر بڑھ گیا۔ ہم جذباتیت کے مارے صورتحال کا ادراک ہی نہ کر سکے۔ دفتر خارجہ اور ڈھاکہ میں پاکستان کا سفارتخانہ ، ڈھاکہ میں متعین بعض پاکستانی سفارتکاروں پر عدم احتیاط کا الزام بھی تھا۔ بلند آوازوںمیں کہا جانے لگا کہ پاکستان نے علقمہ خیر الدین کو سفیر نامزد کر کے حماقت کا ارتکاب کیا۔ وہی برصغیر کی منہ زور جذباتیت وہ آدمی جو دونوں ملکوں کے تعلقات کو بہترین بنیادوں پر استوار کرنے میں ریاضت کا آرزو مند تھا اور باریکیوں سے باخبر، ایک اثاثے کی بجائے بوجھ کیسے ہو گیا۔ سرگوشیاں یہاں اسلام آباد میں بھی تھیں ۔ شاید اس لئے بھی کہ نوکری پیشہ سفارتی کارندے آزادگان کو پسند نہیں کرتے۔ وزیراعظم یوسف رضا گیلانی مگرمصر رہے جو علقمہ خیر الدین کو مدتوں سے جانتے اور پسند کرتے تھے اور انہی کی تجویز پر فیصلہ بھی تھا بنگلہ دیش کے چیف آف آرمی سٹاف جنرل معین گزشتہ ہفتے اسلام آباد کے دورے پر آئے تو وزیراعظم نے خوشخبری کے انداز میں ان سے تذکرہ کیا ”دیکھئے ہم نے ایک بنگالی کو اپنا سفیر نامزد کیا ہے“۔ کہا جاتا ہے کہ جنرل اس پر خوش نہیں تھا اگرچہ اس نے فوری طور پر رد عمل ظاہر نہ کیا۔ ایک اطلاع یہ ہے کہ پاکستان میں بنگلہ دیش کی سفیر محترمہ یاسمین راشد بھی نہیں۔ معلوم نہیں کیوں؟ اگرچہ بظاہر سرکاری طور پر وہ ان بارے میں کلمہ خیر کہتی رہیں۔ آخری اطلاعات یہی ہیں کہ بنگلہ دیش کی حکومت آمادہ نہیں۔ اگرچہ سرکاری طور پر کوئی پیغام موصول نہیں ہوا۔ وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی دیکھنے کو حکمران ٹولے کے دوسرے لوگوں سے مختلف نہیں مگر بعض معاملات میں وہ حساس ہیں اور یہ انہی میں سے ایک ہے۔ رہے دوسرے مہربان تو انہیں بنگلہ دیش کی طرف دیکھنے کی فرصت کہاں۔ زخم سہنے کا دماغ کہاں۔ اسلام آباد میں مقیم بعض بنگلہ دیشیوں نے اس باب میں بڑا ہی افسوس ناک کردار ادا کیا ہے۔ ایک نہایت ہی سنسنی خیز کہانی پوری تفصیل اور شواہد کے ساتھ میرے علم میں ہے لیکن میں اسے اٹھا رکھتا ہوں۔ معاملات کا پس منظر ایسا خونیں ہے کہ نگاہ اندمال پر رکھنی چاہئے۔
کیا حسد، سازشوں اور بدگمانیوں کا شکار مرد نحیف اپنی ذمہ داری تک پہنچے گا اور آغاز کر سکے گا؟ مہم بڑی ہے اور مقابل میں ایک نہتا آدمی مگر اس کا ظرف بڑا ہے اور مقصد عظیم۔ وہ کہتا ہے: آدمی کو سچائی، انصاف اور خود داری پر قائم رہنا چاہئے اور نتیجہ اللہ پر چھوڑ دینا چاہئے تو نتیجہ اللہ پر.... مگر اس کا قانون یہی ہے کہ خیر کے لئے بروئے کار آنے والوں کو بروئے کار رہنا چاہئے۔


    Print        Tell friend        Top


Related Articles:
واشنگٹن میں حلف برداری کی تقریب کی تیاریاں زوروں پر....خالد حمید خان ........واشنگٹن+
جوتے کسے مار ے جائیں؟ ..... خوشنود علی خان کا کالم ناقابل اشاعت+
بدلتا ہے رنگ آسمان کیسے کیسے+


Other Articles:
جوتے کسے مار ے جائیں؟ ..... خوشنود علی خان کا کالم ناقابل اشاعت (01.13.2009) .
بدلتا ہے رنگ آسمان کیسے کیسے (12.20.2008) .



 
All News
تازہ ترین
اہم خبریں
امریکہ کی خبریں
کمیونٹی کی خبریں
بین الاقوامی خبریں
ادارتی کالم
اسلامی کالم
ادبی دنیا
خواتین کارنر
بچوں کی دنیا
کھیل
فلمی دنیا
Hot English News
English News

Newsletter
Your Name:
Your Email:
Submit

 Nida-i-waqt Group News Paper Contact:-  nidaiwaqt@nidaiwaqt.com

All Copy Right Reserved Re-production is strictly Prohibited